جب یہ معلوم ہو چکا کہ رزق مقرر ہو چکا۔ ہر ذی جان مخلوق کا رزق اللہ نے اپنے ذمے  لگا رکھا ہے — اب یہ بے چینی کیا ہے؟ یہ قرضہ جات کیا ہیں؟ یہ سُود اور منافع کیا ہیں؟ اللہ کا واضح ارشاد ہے کہ زمین  پر جو بھی مخلوق ہے، اُس کا رزق اُس کے پاس ہے اور اللہ خزانوں کا خالق ہے، خزانوں کا مالک ہے۔ زمین و آسمان کے خزانے اُس کے اپنے ہیں۔ زمین و آسمان کے لشکر اُس کے اختیار میں ہیں۔ وہ جو چاہے جیسے چاہے، کرے — ہم اور ہماری سوچ بس اپنے بے دست و پا  ہونے کے ثبوت ہیں۔

کیا انسان نے غور کرنا چھوڑ دیا کہ سارا ماضی سمٹ کے اتنا رہ گیا جتنا ہمارے علم میں ہے، اور ہمارے علم میں آنے والا ماضی مختصر ہے —  اور ہمارے حال کی تمام مصروفیتیں اِسی ماضی کے حوالے سے ہیں۔ ہماری عقیدتیں، ہمارا دین، ہماری عبادت  ماضی میں دیے گئے منشور سے عبارت ہیں۔ ہماری تاریخ پرانی تاریخ سے ماخوذ ہے۔ ہمارا علم پرانے علم سے برآمد ہوا۔ ہمارا حال اور ہمارا ماضی صرف ایک ہی زمانہ ہے۔ ہمارا مستقبل — جب تک وہ مستقبل ہے، ایک واہمہ ہے، ایک خواب ہے۔ جب ہمارے پاس آئے گا، وہ   مستقبل نہیں ہوگا، حال ہوگا —اور ”مستقبل حال  ہوگا“ — یہ عجب بات ہے۔ ماضی حال ہے،مستقبل حال ہے اور حال بھی حال ہے۔ پھر ماضی کی عقیدت کیا ہے اور مستقبل کا منصوبہ کیا ہے؟

یہی راز ہے کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ حال یادوں کا نام ہے، منصوبوں کا نام ہے، لیکن بات بہت قابلِ غور ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو واقعہ ہو چکا، جب مجھے اُس کا علم ہوتا ہے تو میرے لیے وہ واقعہ ہو رہا ہوتا ہے۔ میرا ماضی اور سب دنیا کا ماضی، میرے لیے حال ہے۔ گزرا ہوا واقعہ گزرتا ہی نہیں ہے۔ آج بھی ہم دن مناتے ہیں اور اُس دن کو آج    کا دن کہتے ہیں، حالانکہ وہ کل کا دن تھا۔ کچھ راتوں کو ہم آج کی رات کہتے ہیں، حالانکہ وہ کل کی رات تھی۔ کوئی دن جب دوبارہ ہی نہیں آتا تو دن منانے کی بات بہت ہی قابلِ غور ہے۔ کوئی تاریخی واقعہ کسی قیمت پر دوبارہ ویسے نہیں رونما  ہوتا — اِس کی اہمیت کیا ہے؟

کچھ لوگوں نے گزشتہ کل میں کچھ فیصلہ کیا۔ متفقہ فیصلہ، اِس لیے وہ ا ہم تھا۔ اب اُس اہمیت کو یاد رکھنے کی بجائے کیوں نہ متفقہ فیصلے ہی کر لیے جائیں — نئی اہمیت پیدا ہو جائے گی۔ تاریخ کو یاد رکھنے کی بجائے تاریخ بنانے کی فکر کرنی  چاہیے۔ اِسلام صرف روایت کا نام نہیں، صرف احکام اور ارشادات کا نام نہیں، مسلمانوں کے متفقہ عمل کا نام بھی اِسلام ہے۔ پرانے مسلمان اور ہم مسلمان، ایک ہی مسلمان ہیں۔ اُن کا کعبہ ہی ہمارا کعبہ ہے۔ اُن کے زمانے کا قرآن، ہمارا ہی قرآن ہے۔ وہ اللہ، یہ اللہ ہے۔ ہر وہ چیز جو موجودتھی، موجود ہے۔ اگر روح قائم ہو جائے تو وجود ضرور  قائم ہو جائے گا۔ وجود کا ٹوٹنا ،  روح کے انتشار کا نام ہے۔

اگر حال محفوظ ہو جائے تو سارا مستقبل محفوظ —  کیونکہ یہی عمل ہمیشہ رہے گا۔ اِسی طریقے نے آئندہ طریقہ بھی بننا ہے۔ اِسی اسلام نے آئندہ کا اسلام بننا ہے۔ یہی کعبہ ہمیشہ کا کعبہ ہے۔ ہم غور کیوں نہیں کرتے۔ ہم بڑے فخر کے ساتھ اِسلام کا پرچار کرتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا بھی خوف رہتا ہے کہ ہم پر بنیاد  پرستی   کا  الزام نہ آئے۔ اگر اِسلام پرستی کو بنیاد  پرستی کہا  جائے اور حق  پرست کو بنیاد پرست کہہ لیا جائے تو کیا یہ ضروری ہے کہ اس کی تردید کر دی جائے؟

Pages: 1 2 3 4 5