سارا منظر اور پس منظر ایک ہی نظارہ ہے۔ سارا کھیل ایک ہی کھیل ہے۔ انسان پر اِس میں مختلف مراحل آتے ہیں۔ انسان ختم ہو جاتے ہیں، ڈراما جاری رہتا ہے۔ افراتفری ہے۔ ہر انسان پریشانی میں ہے لیکن پریشانی کے باوجود ہر انسان اپنے سامان کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔ لوگوں نے سامان کو پکڑ رکھا ہے اور سامان نے لوگوں کو۔ انسان کی ملکیت اُس کی مالک ہو گئی ہے۔ ہم جس کو قابو کرتے ہیں، وہ ہمیں پکڑ لیتا ہے۔ کسی چیز کو روکنے کے لیے خود رُکنا پڑتا ہے۔ اگر ہم کسی چیز کے ساتھ اُلجھیں تو ہم اپنے آپ سے اُلجھتے ہیں۔ ہم آزاد نہ کریں تو ہم آزاد نہیں ہو سکتے۔ اس سارے ڈرامے میں سارے کھیل کا مصنّف جب چاہے، ڈرامے کو تکمیل تک پہنچا دے۔ ہر انسان اپنے آپ کو ساتویں ایکٹ میں محسوس کرتا ہے کہ ابھی کھیل ختم ہوگا۔ یہ کھیل شروع ہوتے ہی ختم ہونے والا تھا۔ آغاز ہی سے بدن ٹوٹ رہا تھا۔ انجام
نوشتۂ دیوار ٹھہرا۔ ہم استقامت چاہتے ہیں۔ ہمیں عارضی زندگی ملی۔ ہم کسی مقام پر دو متصل لمحات تک بھی نہیں ٹھہر سکتے۔ کچھ ہوتے ہوتے، کچھ اور ہو جاتا ہے۔
کچھ کہتے کہتے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فریاد لب تک آتے آتے اپنا مفہوم بدل لیتی ہے۔ دن، رات کے خوف سے گزرتا ہے اور رات صبح کے انتظار میں کٹ جاتی ہے۔ ایسی بھی راتیں آتی ہیں کہ رات کٹ جاتی ہے اور سورج نہیں نکلتا۔ ایسے بھی دن آئے کہ سورج ڈوب گیا، روشنی باقی رہی۔ ایسے ساتھ بھی ملے جو پاس پاس رہے، ساتھ ساتھ رہے، قریب رہے اور کبھی قریب نہ محسوس ہوئے۔ نگاہوں میں رہ جانے والا ذرا سا فاصلہ، برسوں کی مسافت میں طے نہ ہو سکا۔ ساتھ چلنے والے، ہزار بار اجنبی نکلے اور اپنے قافلے سے بچھڑ گئے۔ چلتے چلتے، ساتھ بدل جاتا ہے اور طے کرتے کرتے، راستے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کبھی سر پر آسمان گرتا ہے، کبھی پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ کبھی انسان، انسان پر مر رہا ہوتا ہے اور کبھی انسان، انسان کو مار رہا ہوتا ہے۔ آنکھ کھول کر چلیں تو آنکھ بند ہونے کی تمنّا پیدا ہوتی ہے۔ آنکھ بند کر دیں تو آنکھیں کھول کر چلنے کا ارادہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایسا جلوہ ہے کہ جسے پوری طرح دیکھا بھی نہیں جا سکتا اور پوری طرح چھوڑا بھی نہیں جا سکتا۔
شاہین کی خوراک معصوم فاختہ کا گوشت ہے۔ وہ اپنی خوراک کھا رہا ہوتا ہے اور ہم اپنے آپ میں لرز جاتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی بکری سے پوچھا گیا:”مائی بکری! تُو لاغر کیوں ہو گئی؟“ بکری نے اُداس ہو کر جواب دیا: ”تمہیں کیا بتاؤں میں نے خواب میں شیر کا جلوہ دیکھ لیا“۔ بس اتنی سی بات ہے۔ جس نے شیر کا جلوہ دیکھ لیا، اُس کی صحت خراب ہو گئی۔ دیکھنے والا ضرور متاثر ہوتا ہے۔ یہ سارا دبستان ایک ہی مالک کی ملکیت ہے۔ وہ ایک طرف ایسے ایسے ستارے بناتا ہے کہ انسان کے تصوّر سے بھی بڑے اور کہیں اتنی باریکیوں میں تخلیق ہوتی ہے کہ انسانی نظر کی مجال نہیں کہ الیکٹرون کے اندر ہونے والے جلووں کو دیکھ سکے۔
یہ ساری صنعت ایک ہی ذات کی صنّاعی ہے۔ ایک ہی جلوہ ہے جو ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ کوئی انسان اُس کے بغیر نہیں اور وہ ہر انسان کے علاوہ ہے۔ اُسی سے سب کچھ ہے اور وہ کسی سے نہیں۔ وہ سب کا باعث ہے، اُس کا کوئی باعث نہیں۔ وہ قاسم ہے، مقسوم نہیں۔ وہ کاتب ہے، مکتوب نہیں۔ وہ خالق ہے، مخلوق نہیں۔وہ مارتا ہے، مرتا نہیں۔ وہ پیدا کرتا ہے، پیدا نہیں ہوتا۔ وہ وقت کا خالق ہے اور خود وقت سے باہر ہے۔ وہ کیا ہے؟ وہ خود ہی جانتا ہے! ہم قلیل علم رکھتے ہیں۔ اتنا علم جتنا اُس نے عطا فرمایا۔ اُس نے ہمیں جو بنایا، سو بنایا۔ اُس نے ہمیں جو کہا، سو کہا۔ احسنِ تقویم سے اسفل السّافلین تک ہمارے تمام مقامات اُدھر سے ہیں۔ ہم تو صرف ظلوماً جہولا ہیں۔ ہم خود تو ”ہم“ نہیں ہیں — ہم تو اُس کا شاہکار ہیں — ہمیں ناز بھی ہے — ندامت بھی — شرمندگی بھی ہے اور فخر بھی! ہمارا حاصل، ہماری محرومیاں ہیں — ہم پھیلتے پھیلتے سمٹ جاتے ہیں — ہم چلتے چلتے رک جاتے ہیں — ہم ہنستے ہنستے رونے لگ جاتے ہیں — ہم الوداع کرتے کرتے رخصت ہو جاتے ہیں — ہم عجب لوگ ہیں!
ہم پیمانے بناتے رہتے ہیں لیکن خود کو ماپنے کا وقت نہیں رکھتے — شاید حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔ ہم آئینے بناتے ہیں — آئینوں میں خود نہیں جھانکتے۔ ہم توقعات رکھتے ہیں کہ لوگ ہمارے معیار پر پورا اُتریں، ہمارے تقاضوں کو پورا کریں لیکن ہم خود کسی کی خواہش پرپورا نہیں اُترتے۔