ہم اپنی خامیوں کو تقدیر بھی کہہ لیتے ہیں اور اپنی قسمت کو تو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم بھی عجب ہیں۔ ہمارے متعلق بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم ایک رات شبینہ میں گزارتے ہیں، دُرود و سلام کی مجالس بپا کرتے ہیں،مراقبے اور سُرور میں محویت تلاش کرتے ہیں — اللہ ہمارے قریب ہوتاہے، ہم اللہ کے قریب ہوتے ہیں — اور دوسری رات، دوسری قسم کی رات ہوتی ہے۔ ہم لوگ،  لوک رس میں مبتلا ہوتے ہیں۔  ہم پر وجد بھی طاری ہوتا ہے۔ ہمارے پاؤں میں طبلے کی تال پر حرکت بھی ہوتی ہے۔ دھمال ہماری فقیری کا نشان ہے۔ ہم تضادات کا مُرکّب ہیں۔ ہمارے ظاہر اور باطن میں فرق رہتا ہے۔ ہم جن لوگوں کا نام اَدب سے لیتے ہیں، اُن کی زندگی کو نہیں  اپناتے۔ ہم صداقت کی تبلیغ کرتے ہیں اور عمل اپنی تبلیغ سے باہر ہوتاہے۔ غالباً نیکی اور اسلام کو صرف تبلیغ کے لیے وقف   کر رکھا ہے۔ کام کے وقت یعنی عمل کے وقت ہم رشوت لیتے اور دیتے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ ہم میں سے کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں — رشوت وصول کرکے کام نہ کرنے والا بس کالی بھیڑ ہے۔

 سچ پوچھو تو ہم نے ایک اعلیٰ قوم بننے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے — آخر کب تک خوابوں کے سہارے جیا جا سکتا ہے؟  اَب ہم ”حقیقت پسند“   ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ہم سمجھ چکے ہیں کہ یہ ملک ہمارے لیے بنا ہے، ہم اِس کے لیے نہیں ہیں — ہم سب ایک دوسرے کو خدمت کے نام پر دھوکا دیتے ہیں۔ ہم کاریگر ہیں۔ ہم خود کو بھی دھوکا دیتے ہیں۔ آنے والے خطرات کو ہم آناً فاناً آنکھیں بند کرکے ٹال دیتے ہیں۔ ہم شاید اُلٹی گنتی کرنے والے ہیں — ہم کیا کرنے والے ہیں—؟

لیکن، ایسے نہیں — ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ ابھی ٹمٹماتے ہوئے چراغوں میں کچھ لَو باقی ہے۔ ابھی اُمّید ختم نہیں ہوئی۔ آواز آ رہی ہے کہ مایوس نہ ہونا۔انتشار ختم ہو جائے گا۔ آرزوؤں کا ہنگامہ دُور ہو جائے گا۔ ہماری موجودہ حالت یہ ہے کہ جیسے اندھیرے میں دو فوجیں ٹکرا رہی ہوں۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم کیا ہو رہا ہے۔ کون ہے جو سیاہی گھول رہا ہے۔ کون ہے جو انسان کو انسان سے دُور کر رہا ہے۔ کون ہے جو استعداد سے زیادہ بوجھ ڈال رہا ہے۔ کون ہے جس نے اِس قوم کو خدا کے خوف سے زیادہ غریبی کے خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔

صرف غور کرنے کی بات ہے۔ موت سے پہلے انسان مر نہیں سکتا اور وقتِ مقررہ کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔   جب یہ مان لیا کہ موت کا وقت مقرر ہو چکا ہے تو پھر یہ ہنگامہ کیا ہے۔ انسانوں کے ایمان کو کیا ہو گیا؟  بے مقصد قیام کی تمنّا آخر کہاں پہنچائے گی اِس قوم کو۔ مقصد نہ ہو تو  زندگی کیا ہے؟ جب یہ معلوم ہے کہ عزت اور ذلّت اللہ کی طرف سے ہے تو یہ ساری سیاست،سارے اخبار، سب پراپیگنڈہ، یہ سب کیا ہے؟ یہ مناظرے،یہ مقابلے،یہ مباہلے اور یہ مجادلے کیا ہیں؟ ہر چیز کو عزت کے ساتھ رہنے دیا جائے تو اپنی عزت بھی قائم رہتی ہے۔ ساتھ والے مکان میں ہونے والے واقعات ہم کو متاثر نہیں کرتے۔ ہمارے ساتھ ہونے والے واقعات سے کون متاثرہو گا؟

Pages: 1 2 3 4 5