دُعا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جہاں دُعا مانگنے والا ہے،  وہیں دُعا منظور کرنے والا ہے۔  اگر آپ با آوازِ بلند دُعا مانگیں تو وہ دُور سے سنتاہے۔ اگر آپ دل میں دُعا مانگیں تو وہ وہیں موجود ہوتا ہے۔  دُعا کا انداز،  تقرّب کے اظہار کا اعلان ہے۔  دُعا الفاظ کی محتاج بھی ہے اور الفاظ سے بے نیاز بھی۔  دُعا منظور فرمانے والا خود ہی انداز عطا فرماتاہے۔  ہاتھ اُٹھانا بھی دُعا ہے۔  ملتجی نگاہ کا اٹھنا بھی دُعا ہے۔

ہم اللہ سے وہ چیز مانگتے ہیں جسے ہم خود نہ حاصل کر سکیں لیکن جس کا حاصل کرنا ممکن ہو۔  مثلاً ہم یہ نہیں مانگتے کہ اللہ ہمیں پرندوں جیسے پَر عطا کر،  کیونکہ یہ ممکن نہیں۔  ہاں البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہمیں عشق کے پَر لگا کر اُڑا، کیونکہ یہ ممکن ہے۔

دُعا پر اعتماد،  ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔  یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ انسان دُعا کا سہارا ہاتھ سے نہ جانے دے۔  جب کسی قوم یا فرد کا دُعا سے اعتماد اُٹھ جائے تو آنے والا وقت مصیبت کا زمانہ ہوتا ہے۔  گناہ اور ظلم انسان سے دُعا کاحق چھین لیتے ہیں۔

دُعا مانگنا شرط ہے،  منظوری شرط نہیں۔  اللہ کریم کے پاس مکمل اختیار ہے،  چاہے تو گنہگار کی دُعا منظور فرما لے،  نہ چاہے تو پیغمبر کی دُعا بھی منظور نہ فرمائے۔  نوح ؑ سینکڑوں برس اللہ کے دین کی خدمت کرتے رہے،  آخر اُن کا بیٹا بھی طوفان کی نذر ہو گیا،  لیکن اُن کے ایمان میں فرق نہ آیا۔  دُعا آخر سوال ہی تو ہے،  ماننے والا مانے یانہ مانے۔ صاحب ِ دُعا خود بھی اِبتلا سے گزرتا ہے۔  یہ زندگی ہے، اس میں غم ضرور آئے گا،  تکلیف ضرور آئے گی،  بیماری ضرور آئے گی اور پھر موت بھی ضرور آئے گی۔

اِن حالات میں دُعا کا مقام کیا رہ گیا؟ دُعا کا یہی مقام ہے کہ انسان تقرّب الٰہی کی خواہش کو کمزور نہ ہونے دے۔  دُعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے دے۔  دُعا یہ ہے کہ ہمارا دل نورِ ایمان سے روشن ہو۔  دُعا یہ ہے کہ اتنا کرم نہ ہو کہ ہم اُس کی یاد سے غافل ہو جائیں،  اور اتنا ستم نہ ہو کہ ہم اُس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔  دُعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں منظور ہونے والی دُعاؤں کی آگہی عطا فرمائے،  اور وہ دُعائیں جن پر بابِ قبولیت بند ہو،  اُن کی توفیق عطا نہ فرمائے۔

Pages: 1 2 3 4 5