انسان اکثر اُن چیزوں کو پسند کرتا ہے جو اُس کے لیے نقصان دہ ہیں اور اکثر اُن چیزوں کو ناپسند کرتا ہے جو اُس کے لیے مفید ہیں۔ ہم اپنی پسند کی چیزیں مانگتے ہیں اور جب وہ حاصل نہیں ہوتیں تو ہم شور مچاتے ہیں، حالانکہ ان کا حاصل نہ ہونا ہی ہمارے لیے مفید ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسنون دُعائیں مانگی جائیں۔ ہمیں دُعاؤں کی تعلیم دی گئی ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے لے کر میّت کے دفن کرنے تک ہرمقام پر دُعا کا طریقۂ کار بتایا گیا ہے، مثلاً معمولی سا واقعہ ہے، آئینہ دیکھنا، اِس کے لیے بھی دُعا ہے کہ ”اے اللہ! میرے چہرے کی طرح میرے کردار کو بھی خوبصورت بنا۔ “
روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک آدمی دُعا مانگ رہا تھا، گڑ گڑا کر، ایک مقرب فرشتے کا وہاں سے گزر ہوا۔ عابد پہچان گیا کہ فرشتہ ہے۔ بولا: ”بھئی! میری چند دُعائیں اللہ میاں کے ہاں پہنچا دو۔ “ پھر اُس نے آرزوئیں گنوانی شروع کیں۔ فرشتہ بولا: ” بس بس میں سمجھ گیا۔ “ وہ بولا: ”کیا سمجھ گئے ہو، ابھی تو بات بھی مکمل نہیں ہوئی۔ “ فرشتے نے کہا : ”میں اللہ میاں سے کہہ دوں گا کہ تیرا فلاں بندہ کہہ رہا تھا کہ اے مالک ! مجھے اپنے علاوہ سب کچھ دے دو۔ “
بس بات اتنی سی ہے کہ ہم اُس سے اُس کے تقرّب کے علاوہ سب کچھ مانگتے رہتے ہیں اور پھر گلہ کرتے ہیں کہ دُعا منظور نہیں ہوتی۔ ہم دوسروں کی تباہی اور ہلاکت کی دُعا مانگتے ہیں، کیسے منظور ہو؟
دُعا سے بَلا ٹلتی ہے، زمانہ بدلتا ہے، انسان اپنے اعمال کی عبرت سے بچ سکتا ہے۔ ماں کی دُعا دشت ِ ہستی میں سایۂ اَبر ہے۔ پیغمبر کی دُعا اُمّت کی فلاح ہے۔ دُعا کی افادیت برحق ہے۔
دُعا سے حاصل کی ہوئی نعمت کی قدر ایسے کرنی چاہیے جیسے مُنعم کی۔ دُعا منظور ہونے کے بعد شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے ہماری دُعاؤں کو قبول فرمایا۔ یہ اُس کا احسان ہے۔ کسی کے احسان کو اپنا حق نہ سمجھ لینا چاہیے۔