بہرحال جب تک زندگی ہے، دُعا رہے گی۔  دُعا آہ ہے،  فریاد ہے۔  شبِ تاریک کی تنہائیوںمیں ٹپکنے والا آنسو بھی دُعا ہے۔  سَرِ نیاز کا بے نیاز کے سامنے جھک جانا بھی دُعا ہے۔  کسی بے بس کی نگاہ کا خاموشی سے سوئے فلک اُٹھنا بھی دُعا ہے، بلکہ مضطرب دل کی دھڑکن بھی دُعا ہے۔  کسی دُور رہنے والے کو محبّت سے یاد کرنا بھی دُعا ہے۔  روح کی مخلصانہ آرزو بھی دُعاہے۔  دُعا دینے والے کے دَر پرکبھی ہم سائل بن کر جاتے ہیں اور کبھی دُعا دینے والا سائل بن کر ہمارے دَر پر  دستک دیتا ہے۔  ہم کسی کی دُعا کی تاثیر ہیں۔  ہماری دُعائیں کسی اور زمانے کو اَثر دیں گی۔  منظور ہو یا نا منظور —  دُعا بدستور جاری رہنی چاہیے۔

[1]           حضرت واصف علی واصفؒ کا اپنا شعر ، در شعری مجموعہ: “شب چراغ”

Pages: 1 2 3 4 5