نیک آدمی کو چاہیے کہ وہ گنہگاروں کی بخشش کی دُعا کرے۔  جاگنے والے کو چاہیے کہ سونے والوں کی فلاح کی دُعا کرے۔ قوم کے ہر فرد کو قوم اور ملک کی سرفرازی کی دُعا کرنی چاہیے۔

صاحب ِ دُعا صاحب ِ محبّت ہوتا ہے۔  اُسی کی دُعا مقبول ہے جس کو انسانوں سے،  جانوروں سے،  پرندوں سے،  غرض یہ کہ ہر ذی جان سے محبّت ہو۔  محبّت نہ ہو تو دُعا محض تکلّف ہے۔

زمین و آسمان اور اُس کے مابین جو کچھ بھی ہے،  اُس کی خیریت کی دُعا مانگی جائے تو اپنی زندگی خیریت سے گزر جاتی ہے۔نفرت کرنے والا انسان دُعا سے محروم ہوجاتا ہے۔  سب کی بھلائی چاہنے والا ہی مقبولِ بارگاہ ہے۔  اللہ کو سب سے زیادہ وہ ہستی محبوب ہے جس کو رحمت ِ ہر دو عالمؐ بنا کر بھیجا گیا۔  حضورؐ کے وسیلے اور واسطے سے دُعاؤں کو مقبولیت عطا ہو جاتی ہے۔

               اَب احتساب میرے گناہوں کا کس لیے

جب واسطہ دیا ہے تمہارے حبیبؐ کا[1]

Pages: 1 2 3 4 5