اگر کوئی کہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا، تو اِسے مانا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ کسی انسان نے اپنی فطرت بدل لی ہے، تو اِسے نہیں مانا جا سکتا۔ انسان اپنا بہت کچھ بدل سکتا ہے، حتیٰ کہ شکل بھی تبدیل کر سکتا ہے لیکن وہ فطرت نہیں بدل سکتا۔ انسان کی فطرت اُس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی تشکیل پا چکی ہوتی ہے،اور پھر وہ اپنی اِس تشکیل کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے— ایسے، جیسے وہ اِس فطرت میں ہی رہن رکھ دیا گیا ہو۔
انسان تبدیلی پسند ہے— وہ بدلتا رہتا ہے۔ لباس بدلتا ہے۔ اپنے سماجی، اخلاقی اور سیاسی کردار بدلتا ہے۔مکان اور شہر بدلتا ہے، دوست اور دشمن بدلتا ہے— لیکن وہ جو کچھ بھی کرے، اپنی فطرت نہیں بدل سکتا۔ کہتے ہیں کہ اگر ہزاروں من چینی بھی ڈال دی جائے تو کڑوا کنواں میٹھا نہیں ہو سکتا۔ پانی کا اصل ذائقہ اُس کی فطرت ہے۔ ہم اسے ہزار رنگ دیں، یہ اپنی فطرت پر رہتا ہے۔
ایک دفعہ ایک گِدھ اور ایک شاہین بلند پرواز ہو گئے۔ بلندی پر ہوا میں تیرنے لگے۔ وہ دونوں ایک جیسے ہی نظر آ رہے تھے — اپنی بلندیوں پر مست،زمین سے بے نیاز، آسمان سے بے خبر، بس مصروفِ پرواز— دیکھنے والے بڑے حیران ہوئے کہ یہ دونوں ہم فطرت نہیں، ہم پرواز کیسے ہو گئے؟ شاہین نے گِدھ سے کہا :”دیکھو !اِس دُنیا میں ذوقِ پرواز کے علاوہ اور کوئی بات قابلِ غور نہیں“۔ گِدھ نے بھی تکلفاً کہہ دیا :”ہاں !مجھے بھی پرواز عزیز ہے، میرے پَر بھی بلند پروازی کے لیے مجھے ملے“۔ لیکن کچھ ہی لمحوں بعد گِدھ نے نیچے دیکھا۔ اُسے دُور ایک مرا ہوا گھوڑا نظر آیا۔ اُس نے شاہین سے کہا :”جہنّم میں گئی تمہاری بلند پروازی اور بلند نگاہی — مجھے میری منزل پکار رہی ہے“۔ اتنا کہہ کر گِدھ نے ایک لمبا غوطہ لگایا اور اپنی منزلِ مُردار پر آ گرا۔ فطرت الگ الگ تھی، منزل الگ الگ رہی۔ ہم سفر آدمی اگر ہم فطرت نہ ہو تو ساتھ کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔
انسان کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ فطرت اپنا اظہار کرتی رہتی ہے۔ جو کمینہ ہے، وہ کمینہ ہی ہے خواہ وہ کسی مقام و مرتبہ میں ہو۔ میاں محمد بخش صاحبؒ کا ایک مشہور شعر ہے کہ
؎ نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا
کِکّر تے انگور چڑھایا ، ہر گچھا زخمایا
(کمینے انسان کی دوستی کبھی کوئی فیض نہیں دیتی ، جس طرح کیکر پر انگور کی
بیل چڑھانے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ہر گچھا زخمی ہو جاتا ہے)