کسی شخص سے اُس کی فطرت کے خلاف کام لینا ظلم کہلاتا ہے۔ اِس ظلم سے بچنے کے لیے اور اس سے سماج کو بچانے کے لیے فطرت آشنا،جوہر شناس لوگوں کی ضرورت ہے۔ اداروں کے سربراہوں کی فطرت کے بارے میں غفلت نہ برتنا چاہیے۔ یہی ایک ضروری احتیاط ہے۔ تحفے وصول کرنے والے کو بااختیار نہیں بنانا چاہیے۔  نیچ  نوازی بند کر دی جائے تو سفر کی سمّت کا تعیّن آسان اور یقینی ہو جائے۔ اگر عالی ظرفوں کو عالی مرتبہ بنا دیا جائے تو منزل مل جاتی ہے۔

برسوں اِکٹھا رہنے کے باوجود رشتوں کے اشتراک کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ جب فطرت غالب آتی ہے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ:

ع        ہم جسے ایسا سمجھتے تھے، وہ ویسا نکلا

مختلف فطرتیں مشترک سفر نہیں کر سکتیں۔ اگر ایسا ہو رہا ہو تو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ پیرِرومیؒ  کہتے ہیں کہ ایک دفعہ دجلہ کے کنارے پر انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک کوّا    اور ایک ہنس ساتھ ساتھ چُگ رہے تھے۔ مولانا حیران ہوئے کہ یہ کیسا منظر ہے،  دو الگ فطرتیں ایک ساتھ دانہ چُگ رہی ہیں۔ مولانا اُن کے قریب گئے۔ معلوم ہوا کہ دونوں ہی زخمی تھے۔ بیماری میں مختلف فطرتوں کا عارضی اشتراک ہو سکتا ہے لیکن صحت مند وجود اپنی فطرت کے علاوہ کسی اور اشتراک میں موجود نہیں رہ سکتا۔

کبھی کبھی صحبت ِغیر، انسان کی فطرت کو عارضی طور پر رُوپوش کر دیتی ہے لیکن یہ وقت ہمیشہ نہیں رہتا۔ آخر رُوپوش   رُونما ہو کر رہتا ہے۔ ایک دفعہ ایک شیر نے دیکھا کہ ایک شیرزادہ   بھیڑوں کے گلّے میں نہایت شریفانہ زندگی بسر کر رہا ہے۔ وہ بہت حیران ہوا کہ یہ کیا قیامت ہے، شیر نے فطرت بدل لی۔ وہ اُس  جوان کے پاس گیا اور کہا :”میرے ساتھ آؤ! میں تمہیں  ایک نظارہ دکھاتا ہوں“۔ وہ اُسے تالاب پر لے گیا اور کہا غور سے دیکھو، ہم دونوں کی شکلیں برابر ہیں۔ ہم ایک ہی جنس ہیں۔ ہماری ایک ہی فطرت ہے۔ اب دیکھو! —میرا عمل! اُس نے ایک بھیڑ کو گردن سے پکڑا اور آناً فاناً اُسے چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ بس اِتنی ہی دیر درکار تھی۔ شیر زادے کا جوہر بیدار ہو گیا۔ فطرت غالب آئی۔ وہ بھی واقعی شیر بن گیا۔

اصل فطرت کو بیدار ہونے کے لیے صحبت ِ صالح درکار ہے۔ صالح فطرت لوگوں کو اہم مقامات پر فائز کرنے سے اہم نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تقسیم  فاطرِ حقیقی نے قائم کر رکھی ہے۔ فطرت اِس لیے نہیں بدلتی کہ اِسے فاطرِ حقیقی  نے نہ بدلنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے لیکن انسان کی فطرت نہیں بدل سکتی۔ یہ اٹل ہے۔

Pages: 1 2 3 4