فطرت کا تعلّق حالات اور تعلیم سے نہیں، اِس کا تعلق انسان کے باطن سے ہے، اِس کے باطنی اندازِ نظر سے ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ فطری طور پر مذہب پرست ہیں، کچھ لوگ مذہب سے بیزار۔ مذہب پرست لوگ عبادت گاہیں بناتے ہیں — مثلاً مسجد،مندر، چرچ، گردوارہ، اسٹوپا وغیرہ۔ یہ لوگ اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے پیشواؤں کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ اپنی باطنی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ یہ الگ بات کہ اصل ارتقاء کس کے پاس ہے۔
دنیاوی سفر کو کسی آسمانی ضابطے کے مطابق طے کرنے والے، مذہبی لوگ کہلاتے ہیں۔ اُن کی فطرت ہی اُن کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خود کو بلند خیالی سے آگاہ کریں۔ وہ اِس کائنات کو کسی خالق کے حوالے سے دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی بات انہیں مذہبی شعور کی طرف لاتی ہے۔ یہ اُن کی فطرت ہے — اور دوسرے لوگ تو ہمیشہ ہی دوسرے ہوتے ہیں۔ وہ کسی خالق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ جب خالق ہی کو نہیں مانتے تو وہ کسی رسول پر کیا اعتقاد رکھیں گے! ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ دنیا سمیٹتے ہیں اور کچھ لوگ دنیا سے نجات چاہتے ہیں۔ یہی تو فطرت ہے۔ بنانے والے خالقِ اکبر کا حکم ہے کہ تم میں سے ہی لوگ ہیں جو دنیا کے طلب گار ہوں گے اور تم میں سے ہی لوگ ہیں جو آخرت کے طلب گار ہوں گے۔ یہ خالق کا حکم ہے کہ ہر شے اپنی اصل کی طرف رجوع کرتی ہے۔ یہ اصل ہی فطرت ہے۔ یہی دیکھنے والی شے ہے۔ اِس کا عرفان ہی، عرفان ہے — چیزوں کو اُن کی حقیقت کے رُوپ میں دیکھنا۔ حضورؐ اکثر دُعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے چیزوں کو اُن کی اصلی فطرت میں دیکھنے کا شعور عطا فرما۔
اگر فطرت سے آشنائی ہو جائے تو دنیا میں کوئی کسی کا گلہ نہ کرے۔ آج کا انسان چہرے بدلتا رہتا ہے۔ وہ اپنے اصل جوہر کے برعکس زندگی بسر کرنے کی سعی کرتا ہے لیکن اُس کی فطرت اُس پر غالب آ کر رہتی ہے۔ ہمارے پیشے، ہمارے مرتبے،ہمارے مال،ہمارے اثاثے ہماری فطرت نہیں بدل سکتے۔ کمینہ، کمینہ ہی ہو گا — خواہ وہ کہیں بھی فائز ہو۔ سخی،سخی ہو گا — خواہ وہ غریب ہو۔
ابتدائی زمانوں میں پیشے، مزاج کے مطابق بنائے گئے تھے۔ معلّم فطرتاً معلّم ہوتے تھے۔ اُن کی تصانیف معلّم تھیں۔ اُن کی مجلس معلّم تھی۔ اُن کا ہر ہر انداز معلّمانہ تھا۔ لوگ دُور دُور سے اُن کے پاس آتے اور علم کی پیاس بجھاتے۔ امتحانوں اور ڈگریوں کے کاروبار نہیں تھے۔ صحیح لوگ تھے، صحیح کام کیا کرتے تھے۔ اب لوگ پیشے کے اساتذہ ہیں، اُن کا وہ انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ انہیں اپنے گریڈوں کی فکر ہے۔ وہ طالب علموں کو اپنے سامنے بدعادات میں غرق ہوتے دیکھ کر بے تاب نہیں ہوتے۔ جب مہینوں کے مہینے گزر جائیں اور طالب علموں کا سفر رُکا رہے، اِن معلّموں پر قیامت نہیں گزرتی۔ وہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور چھٹیاں مناتے ہیں۔یہ فطرت ہی کچھ اور ہے، وہ فطرت ہی کچھ اور تھی۔
ہر شعبہ اپنی بنیاد سے ہٹ سا گیا ہے۔ سیاست کو لیں۔ ہم دیکھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کس قسم کے لوگ آگے آ رہے ہیں۔ اِن سے کیا توقعات ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے، ہم ملکی سطح پر ایک دائرے کا سفر کر رہے ہیں۔ زمانہ کہاں ترقی کر رہا ہے، ہم صرف دُوبدو ہیں، ایک دوسرے کے۔ جھگڑالو فطرت والے لوگ کہیں قوم میں انتشار پیدا نہ کر دیں! سلیم فطرت لوگ سیاست سے گریز کرتے ہیں اور نتیجہ یہ کہ وہ لوگ ہی زیادہ مظلوم بنا دیے جاتے ہیں۔ سلیم اور حلیم فطرت لوگوں کو آگے آنا چاہیے کہ سفر کا رخ صحیح ہو۔