اگر انسان فطرت آشنا ہو جائے تو بہت سے جھگڑے اور بہت سے ہنگامے ختم ہو سکتے ہیں۔ ہم فطرت کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کریں — بد اور نیک — تو ہم دیکھیں گے کہ یہی دو گروہ اپنے اپنے عمل سے دنیا کو وہ کچھ بنا رہے ہیں ،جو یہ بن رہی ہے۔
ایک طرف تو اِنسان کی تکلیف کو دُور کرنے کے لیے ہسپتال بن رہے ہیں۔ نیک فطرت لوگ دن رات انسان کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ دُکھی انسانوں کی خدمت ہوتی ہے، اِن ہسپتالوں میں۔ انسان کا خیال تک زخمی ہو جائے تو اِس کے لیے بھی خدمت کے لیے تیار ادارے موجود ہیں۔ دنیا کو اَمن کا گہوارہ بنانے والے لوگ مصروفِ خدمت ہیں، اور اِن کے مقابلے میں بدفطرت لوگ کیا کر رہے ہیں۔تباہی،بربادی،جنگ،پریشانی اور بے چینی پھیلانے والے، اِنسان ہی تو ہیں۔
اسی طرح حیا والے برائی دیکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں، اور بے حیا تو بس، ہے ہی بے حیا — اِس کا کیا۔ اخبارات بھرے پڑے ہیں،بداعمال لوگوں کے ظلم سے — لوٹنے والے، بم پھینکنے والے،نظامِ عالم درہم برہم کرنے والے،افراتفریاں مچانے والے، سماجی سکون برباد کرنے والے، محفوظ کو غیرمحفوظ بنانے والے، محسن فراموش،دوستوں سے بھی غداری کرنے والے،میزبان کا گھر لُوٹ کر لے جانے والے،مسافروں کو موت کے گھاٹ اُتارنے والے، پاکیزہ روایات کو پارہ پارہ کرنے والے — اپنی فطرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
نیک فطرت لوگ سماج ساز ہوتے ہیں۔ وہ انسانوں کو پریشان نہیں کرتے۔ فرق صرف اصل اور فطرت کا ہے۔ بدفطرت بدی کرکے ہی دَم لیتا ہے۔ کہتے ہیں، کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے کچھ ڈاکو گرفتار کیے۔ اُن کو سزائے موت کا حکم دیا۔ ڈاکوؤں میں ایک چھوٹا لڑکا بھی تھا۔ بادشاہ نے سوچا کہ ابھی بچہ ہی تو ہے، اِسے نہ مارنا چاہیے۔ وزیرِ خاص نے کہا :”جہاں پناہ! بچہ تو ہے لیکن میں اِس کو بدفطرت دیکھ رہا ہوں“۔ بادشاہ نے کہا: ”اِسے ہم اپنے پاس رکھ کر پرورش کریں گے“۔ وزیر کا کہنا نہ مانا گیا۔ دِن گزرتے گئے۔ بچہ بڑا ہو گیا اور آخر ایک دن شہزادی کو لے اُڑا۔ وزیر نے کہاکہ اب رونا کس بات کا۔ بَد،بَد ہی نکلا۔
یہ پہچان بھی خاص فطرت کی عطا ہے۔ بیج میں درخت کو دیکھنا ہر آدمی کا کام نہیں ہے۔ یہ سعادت بھی عطائے رحمانی ہے۔ حکمت ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی۔ نیکی کے نام پر جماعتیں بنانے والے بد بھی ہو سکتے ہیں۔ ظاہر ضروری نہیں کہ باطن کا عکس ہو۔ اسی بات سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کے لمحے میں ہی اصل ظاہر ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں، ایک دفعہ بلّیوں نے مل کر چناؤ کے ذریعے ایک بلّی کو سردار بنا دیا۔ اُس کے سر پر تاج رکھ دیا۔ سردار بلّی تاج پہن کر پہلی تقریر کرنے لگی۔ وہ تقریر کی تیاری کرکے آئی تھی۔ بس اُس نے تقریر کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ اُس کو ایک چوہا نظر آ گیا۔ اُس نے تاج پھینک دیا اور کہا: ”جہنّم میں گئے تمہارے تاج اور تمہارے انتخابات — چوہا ہی اصل بات ہے“۔ اُس کی فطرت غالب آ گئی اور جلسہ منتشر ہو گیا۔
ہمیں فطرت شناس ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی بلند فطرت، پست حالات سے گزریں تو بھی اُن کا مزاج پست نہیں ہوتا۔ عالی ظرفی یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی عزت کی جائے۔ ایک دفعہ حضورِ اکرمؐ کے رُوبرو غلام پیش کیے گئے۔ اِن میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔ آپؐ نے پہچانا کہ سخی باپ کی سخی بیٹی ہے۔ آپؐ نے اُس کے بیٹھنے کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دی۔ سخی کی عزت کی، حالانکہ وہ غلام تھی۔ پیغمبرؐ کی بات باتوں کی پیغمبر ہوتی ہے۔ بس یہی سند ہے کہ حالات کے پیچھے اصل فطرت کو پہچاننا چاہیے۔
وہ ملک ترقّی کرتے ہیں جہاں اداروں کے سربراہ نیک فطرت لوگ ہوں۔ حسّاس فطرت انسانوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ کہیں وہ ہمارے عمل سے آزردہ نہ ہوں۔ ایک دفعہ ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو یوں سزائے موت دی کہ اُسے پہاڑ سے گرا دیا جائے۔ وہ آدمی بچ گیا۔ بادشاہ نے کہا:”اسے دریا میں گرا دیا جائے“۔ وہ بچ گیا۔ بادشاہ نے اُس سے پوچھا: ”اے انسان! تُومرتا کیوں نہیں؟“ اُس نے کہا :”اگر مجھے آسمان سے بھی گرا دو تو میں بچ جاؤں گا۔ میں خاص فطرت رکھتا ہوں۔میں کسی بلندی سے گر کر نہیں مر سکتا۔ ہاں البتہ— مجھے مارنا ہی ہے تو مجھے نظروں سے گرا دو، میں مر جاؤں گا“۔