کسی انسان کا کسی انسان پر یا سماج پر یا ملک و قوم پر کتناحق ہے،اِس کے لیے کوئی قانون نہ بھی ہو، تب بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جس شے کی جتنی افادیت ہو گی، اُتنی ہی قیمت ہو گی — اُتنا ہی حق ہو گا۔
حقوق کاتعیّن،حقوق کا احترام اورحقوق کی ادائیگی کو توازن کہتے ہیں۔حقوق کی حفاظت میزان ہے۔حقوق کا لحاظ کرنے والا معاشرہ ایک متوازن اور فلاحی معاشرہ کہلاتا ہے۔
زندگی حقوق سے باہر نکل جائے تو سرکش و باغی ہو جاتی ہے۔اِس کی تمام قدریں پامال ہو کر رہ جاتی ہیں۔اِس کا تمام جمال ختم ہو جاتا ہے۔اگر زندگی حقوق سے محروم ہو جائے تو ایک بے بس،محکوم شے بن کے رہ جاتی ہے۔
کامیاب معاشرہ وہی ہے کہ چپکے سے فرائض ادا ہوتے رہیں اور چپکے سے ہی حقوق اَدا ہوتے رہیں۔ جس دَور میں انسان کو حقوق کے حصول کے لیے جہاد کرنا پڑے، اُسے جبر کا دَور کہتے ہیں اور اگرحقوق کے حصول کے لیے صرف دُعا کا سہارا ہی باقی رہ جائے تو اُسے ظلم کا زمانہ کہتے ہیں — اور وہ زمانہ جس میں کچھ لوگ حق سے محروم ہوں اور کچھ لوگ حق سے زیادہ حاصل کریں، اُسے افراتفری کا زمانہ کہتے ہیں۔جہاں ہر شے،ہر جنس ایک ہی دام فروخت ہونے لگے، اُسے اندھیر نگری کہا جائے گا۔
حقوق اور حقوق کی اہمیت کا لحاظ ہی معاشروں کو ترقی کی منازل عطا کرتا ہے۔ایک دوسرے کے حقوق کے احترام سے ہی سماج میں قیام پیدا ہوتا ہے۔دوسروں کے حقوق کا احترام کیے بغیر اگر اُن پر اختیار جتلایا جائے تو ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد جتلانے کے لیے اختیار ہی نہ رہے۔ حقوق کی ادائیگی محبّت پیدا کرتی ہے اور حقوق کی پامالی نفرت۔محبّت اطاعت پیدا کرتی ہے اور نفرت بغاوت۔طاقتور حقوق اَدا کرتا رہے تو طاقتور ہی رہے گا۔حقوق نہ ادا کرنے والا ظالم کہلائے گا اور ظالم سے طاقت چھن جائے گی۔یہ قدرت کا اصول ہے۔
انسان پر ایک زندگی میں کئی حقوق واجب الادا ہیں۔تفصیل بیان کرنا ناممکن ہے۔ سب سے زیادہ اہم تین قسم کے حقوق ہیں، یعنی سماج کے حقوق ،اپنی ذات کے حقوق اور اپنے خالق کے حقوق۔سماج کے حقوق میں قوم کے حقوق ، مُلک کے حقوق ،حکومت کے حقوق ، پاس رہنے والوں کے حقوق اور اُن لوگوں کے حقوق جہاں انسان مؤثر ہوتا ہے۔ قوم کے حقوق میں سب سے مقدّم حق یہ ہے کہ ہم قوم کو قوموں کی برادری میں معزز مقام دلانے کے لیے سعی کریں۔قومیں اَفراد کی محنت سے سر بلند ہوتی ہیں۔ہم اپنے مفاد کو قوم کے مفاد پر قربان کرنا سیکھ لیں تو قوم ترقی کرنا شروع کر دے گی۔اگر افراد قومی منفعت کو ذاتی مفادات پر نثار کرتے ہیں تو نتیجہ مناسب نہیں ہو سکتا۔