ہم لوگ قبیلے،ذاتیں،فرقے اور صوبائی اور مذہبی عصبیتیں ترک کر کے ایک قوم بنے ہیں۔اگر پھر عصبیتیں لوٹ آئیں تو قوم ختم ہو جائے گی۔ہم جب پاکستانی ہیں تو یہ ذات کیا اور وہ ذات کیا؟سندھی،بلوچی،پٹھان،پنجابی، کیا معنی؟ہماری قومی شناخت پاکستان کے دَم سے ہے۔ہم پاکستانی ہیں۔ہمیں پاکستانی ہی رہنا چاہیے۔یہ قوم کا حق ہے کہ ہم انفرادی تشخص کی بجائے اجتماعی تشخص کے حصول کے لیے کوشاں رہیں۔
ہم پر ملک کے حقوق اَدا کرنا ضروری ہیں۔ہم وطن پرست رہیں۔ہم مفادِ وطن عزیز رکھیں۔ ہم وطن کی آبرو پر آنچ نہ آنے دیں۔ہم ملکی وحدت اور سلامتی کا خیال رکھیں۔ ہم سب ملک کے محافظ ہیں۔ہم ہی ملک کا سرمایہ ہیں۔ملک نے ہمیں ایک قوم بنایا،ایک وحدت بنایا۔اِس ملک کے حصول کے لیے بڑا خون قربان کیا گیا۔بڑے کٹھن مراحل سے قافلہ گزرا ہے۔ بڑے مشکل زمانے آئے ہیں اِس قوم پر۔بڑے طوفانوں سے گزرا ہے ہمارا ملک۔ ہمارے چھوٹے سے سفر میں ایک بڑا سا حادثہ بھی رُونما ہو چکا ہے۔ابھی ہم اپنے ملک کے حقوق کا مکمل خیال نہیں رکھتے۔چھن جانے کے بعد بہشت کی قدر ہوتی ہے۔کہیں خدانخواستہ یہ ملک ہمیں نامنظور نہ کر دے۔ابھی وقت ہے۔ملک کے حقوق اَدا کرنا ضروری ہے۔ ہمیں گھر کی بات گھر تک رکھنا چاہیے۔ہم اِس ملک کے اَمین ہیں۔یہ ملک ہمارا محافظ ہے۔ملک سلامت ہے تو ہم سلامت ہیں۔یہ نہیں تو ہم کہاں — ؟
ملکی زندگی میں ہرشخص کو شامل کیا جائے، ہرشخص کی زندگی میں ملک کو شامل کیا جائے، حقوق ادا ہو جائیں گے۔ہمارے ذاتی اختلافات ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ہماری ذاتی اَنا ملک کے مفاد میں نہیں۔
ملک حکومتوں کی ذمہ داری ہوتے ہیں، لیکن عوام کے بغیر مُلک صرف جغرافیہ ہی تو ہے،صرف مٹی۔حکومت اور عوام مل کر وطن کی تعمیر کریں تو ترقی ہو گی۔
عوام کا حق ہے کہ اُنہیں پُرسکون زندگی ملے۔اُن کی نیندیں پُرسکون ہوں — دِن پُرسکون ، راتیں پُرسکون ،سرحدیں محفوظ،جان و مال محفوظ،مستقبل و حال محفوظ — غرضیکہ زندگی اپنی تمام رعنائیوں سمیت سلامت رہے — اور اگر خدانخواستہ ملک پر کوئی اُفتاد پڑے تو ہر زندگی ملک پر نثار ہونے کے لیے بے قرار ہو۔
اِنسان پر اُس کی اپنی ذات کے بڑے حقوق واجب الادا ہیں،اپنے ظاہر کے حقوق،اپنے باطن کے حقوق۔ظاہر کے حقوق یہ ہیں کہ ہم اپنے آپ کو ایک با عزت شہری بننے کے لیے تیار رکھیں۔اپنے دَور کی رائج تعلیم کا حصول فرض ہے۔ہمارا ہم پر حق ہے کہ ہم اپنے آپ کو گردوپیش سے باخبر رکھیں۔اپنے ماحول سے آگاہ رہیں۔ہم اپنے مشاہدات و تجربات سے دوسروں کو آگاہ کریں۔چراغ سے چراغ روشن ہو اور یوں اَوہام پرستی سے نجات ملے۔اپنی شناخت قائم کرنا ہمارا فرض ہے۔ اپناتشخص قائم کرنا ضروری ہے۔ اپنا لباس، اپنی زبان، اپنالہجہ، اپنی جلوت و خلوت کا خاص خیال رکھنا ہمارا ہم پر حق ہے۔