ہمارے باطن کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ ہم احساس کی دُنیا زندہ رکھیں۔  ہم اپنے دِل کو محسوس کرنے والا بنائیں۔سوچنے والا ذہن اور محسوس کرنے والا دِل نصیب والوں کو عطا ہوتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو اپنے مذہب سے علمی اور عملی طور پر آشنا رکھیں تو حقوق ادا ہوں گے۔ مذہب صرف تعلیم نہیں،مذہب صرف عمل نہیں،مشین کی طرح —ہمیں اپنے مذہب کے ساتھ ایک شعوری لگن ہونی چاہیے۔دین اور دُنیا کی فلاح کا حصول ہمارا مُدعا ہونا چاہیے۔ہماری مساجد ہمارے لیے فلاحی مراکز بن جائیں تو ایک خوبصورت انقلاب آ جائے۔

حقوق و فرائض کا خیال رکھنے والا معاشرہ ہمیشہ فلاحی ہوتا ہے۔اِسلام سے بہتر کون سا دین ہو سکتا ہے اوراِس کے اصولوں سے زیادہ بہتر کوئی اصول نہیں ہو سکتا۔ اسلامی فلاحی معاشرہ دُنیاکے تمام معاشروں سے بہتر ہے۔اسے قائم کیا جائے۔ اسلامی فلاحی معاشرہ حکم اور جبر سے قائم نہیں ہو سکتا۔یہ محبّت  اور شوق سے قائم ہو گا۔ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں، معاشرہ بن جائے گا۔ جب تک انسان اپنی رُوح کو بیدار نہیں کرتا، وہ کوئی فلاحی کام نہیں کر سکتا۔

 ایک روشن روحانی زندگی کا حصول بھی ہم پر فرض ہے۔یہ ہمارا حق بھی ہے کہ ہم کسی روحانی تجربے سے گزریں اور اگر ممکن نہ ہو تو کم اَز کم کسی رُوحانی بزرگ سے آشنائی تو ہونی چاہیے۔ رُوح زندہ تو انسان زندہ،نہیں تو نہیں۔

اِنسان کا سوچنا بھی عمل ہے اور محسوس کرنا بھی ایک عمل ہے۔ایک اِنسان کسی کھیت، کھلیان،فیکٹری،دفتر میں کام کر رہا ہو،اُسے مصروف کہیں گے۔ وہ کام کر رہا ہے۔ ایک کرسی پر خاموشی سے آنکھیں بند کیے سوچنے والا اِنسان بظاہر بے کار بیٹھا ہے لیکن یہ بہت بڑا کام کر رہا ہے۔فکر کے سمندروں میں غوطہ لگانے والے، گوہرِ مراد نکالنے والے لوگ محسنین کہلاتے ہیں۔  ایسے لوگوں کی فکر ہی اُن کا عمل ہے۔ صاحبِ فکر ہونا بھی ہمارا فرض ہے۔ہمارا یہ حق مقدم ہے کہ ہم خود کو صاحبِ خیال بنائیں، صاحبِ فکر بنائیں۔قوم کو نئی منزلوں سے آشنا کروانے والوں   کا احترام سب پر فرض ہے۔اُن کا حق ہے کہ اُن کی حفاظت کی جائے، اُن کا خیال رکھا جائے۔

   اِنسان پر سب سے اہم حق خدا کا ہے۔زندگی دینے والا چاہتا ہے کہ زندگی اُس کے بتائے ہوئے راستے پر چلائی جائے۔وہ چاہتا ہے کہ اُس کے محبوبؐ  کا راستہ ہی محبوب راستہ ہو۔  اللہ کریم انسانی زندگی کو اپنی طرف گامزن دیکھنا چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اِنسان اُس کی طرف رجوع رکھے۔اُس کی طرف سفر کرے۔اُس کی طرف گامزن رہے۔خدا سے غافل رہنے والی زندگی حجابات میں کھو جاتی ہے۔خالق کے خیال کو چھوڑکر مخلوق کے خیال میں گم ہونے والا انسان دین و دُنیا کے خسارے میں رہتا ہے۔اللہ ہمیں ایک ہمیشہ رہنے والی  سرشاری کی طرف دعوت دیتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ ہم اِس عارضی زندگی کو ایسے اصولوں کے مطابق بسر کریں کہ اَبدی حیات حاصل کر سکیں۔ وہ ہمیں حقیقی خوشی اور سَر خوشی  سے تعارف کرواتا ہے۔ وہ اپنے محبوبؐ  کی محبّت  سے نوازتا ہے۔ وہ ہمیں ایک کامیاب زندگی سے تعارف کرواتا ہے۔ہم پر فرض ہے کہ اُس کی اطاعت کریں۔یہ اُس کا حق ہے،سب حقوق سے مقدّم حق،جو ہمیں ادا کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی ادائیگی ہے جس میں کوئی معذوری، کوئی مجبوری آڑے نہیں آ سکتی۔یہ وہ فرض ہے جس کے اَدا  نہ کر سکنے کا کوئی جواز معقول نہیں ہو سکتا۔

 اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے بھی لوگوں کے حقوق کی ادائیگی فرض کر دی ہے۔مثلاً اللہ نے فرمایا کہ ماں باپ  کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔یہاں تک کہ اُن کے آگے اُف بھی نہ کہو، اور اگر والدین بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو اُن کے لیے اپنے بازو  رحمت و شفقت کے بازو  بنا دو اور دُعا کرو کہ اے اللہ!میرے والدین پر ایسے رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم فرمایا۔  ماں باپ کی اطاعت حقوق العباد میں شامل ہے،لیکن حقوق العباد  اللہ ہی کے مقرر کیے ہوئے ہیں —  یعنی حقوق العباد بھی حقوق اللہ ہی ہیں۔

Pages: 1 2 3 4