اللہ نے فرض کر رکھا ہے کہ لوگ اللہ کے محبوبﷺ  کی اطاعت کریں۔ حضورؐ  کی آواز سے اونچی آواز تک نہ نکالیں۔حضورؐ کے فرمان سے زیادہ معتبرکوئی بات نہیں ہو سکتی۔ حضورؐ کے بتائے ہوئے راستے کے علاوہ کوئی بھی راہ اِس قابل نہیں کہ اُس پر چلا جائے۔

  اِنسان اللہ کے بتائے ہوئے حقوق ادا کرتا چلا جائے تو فلاح یقینی ہے۔رہا اِنسان کا اپنا حق اللہ پر،وہ تو اِنسان نے پیدا ہوتے ہی حاصل کر رکھا ہے۔اُس کے پیدا ہونے سے پہلے خوراک کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ اُس کی پرورش کرنے کے لیے والدین موجو د تھے۔ اُس کے استقبال کے لیے پوری دُنیا موجود تھی۔اُسے آنکھیں عطا کر دی گئیں اور دیکھنے کے لیے ایک خوبصورت کائنات موجود تھی۔یہاں تک کہ عبادت کے لیے مسجدتک  موجود تھی ۔اِس کے باوجود اللہ کا ارشاد کہ اے بندے!مجھ سے مانگ! اللہ دُعائیں سنتا ہے،قبول کرتا ہے۔اُس نے موسموں کو حکم دے رکھا ہے کہ اِنسان کے لیے مناسب ہوا اور خوراک کا انتظام کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے اطاعت کرنے والے اِنسان کو اشرف بنا دیا۔زمین و آسمان مسخر کرنے والا اِنسان صِرف اپنے رَبّ کے سامنے جھکنے کا فرض ادا کرے، اُسے ہر چیز کوجھکانے کا حق ہے۔سب کو نِگوں کرنے والا، اپنے مالک کے سامنے  سرنِگوں ہو جائے —  یہ حق ہے۔اللہ ہمیں حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Pages: 1 2 3 4