میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں،وہ شاید نہ کہہ سکوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں،شاید وہ میرا مقصد ہی نہ ہو۔ یہی تو مجبوری ہے اور یہی میرے عہد کی پہچان ہے۔ ہم ایک کرب ناک صورت ِحالات سے گزر رہے ہیں۔ اِنسان اپنے اصل سے کٹ چکے ہیں اور الفاظ اپنے معنی سے ہٹ چکے ہیں۔ ہم لوگ الگ الگ جماعت ہیں اور یوں وحدت ِقوم،جمعیت التفریق بن کر
رہ گئی ہے۔
ہم مصروف ہیں لیکن ہماری مصروفیت بے معنی ہے۔ ہم دفتروں میں کچھ اور ہیں اور گھروں میں کچھ اور۔ ہم وطن کی تعمیر کی بجائے اپنے مکانوں اور آستانوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ ہمارا اصل وطن ہماری خواہشات کا نام ہے۔ ہم اپنی اپنی اَناؤں میں رہ رہے ہیں۔ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، ہمارے علم نے ہمیں دوسروں پر فوقیت جتلانا ہی سکھایا ہے،دوسروں کے کام آنا نہیں۔ ہم اپنی نگاہ میں خود ہی سب کچھ ہیں۔ ہم کسی پر اعتبار نہیں کرتے۔ ہم خود بھی
قابل ِ اعتبار نہیں ہیں۔
خواب دیکھنا ہمارا مشغلہ ہے۔ ہم عظیم مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ پہلے بھی ہم ایک خواب کی پروڈکشن ہیں۔ ایسا خواب جو ابھی تک اپنی تعبیر کی تلاش میں ہے۔ مستقبل کا تصور ہمیں حال سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ ہم اپنے پیچھے ملّی المیے چھوڑ آئے ہیں لیکن ہم ہر حالت سےسمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ ہم صرف انسانوں سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ہم اصول بیان کرنے والی قوم ہیں۔ دوسروں کو اصول کی تعلیم دیتے ہیں،معلّم کے لیے عمل ضروری نہیں۔ ہم حقیقت بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسے آگے بیان کرتے ہیں اور اِس طرح بیان جاری رہتا ہے اور عمل کی فرصت ہی نہیں ملتی۔
ہمارا نظام ِفکر اِمپورٹ ہوتا ہے اور اِس طرح ہماری وابستگی الگ الگ ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ رُوس نواز ہیں۔ کچھ لوگ امریکہ نواز ہیں۔ کچھ لوگ چِین نواز، ہند نواز اور کچھ لوگ ’’حق نواز“ ، ہم پر ثقافتوں اور سیاستوں کی یلغار ہے۔ ہماری پسندیدہ یا ترا،ہند یاترا ہے۔
ہمارے لیے وی سی آر کی بھر مار ہے۔ خدا کی مار ہے کہ ہر چوتھا آدمی ہیروئن کا شکار ہے۔ بس استغفار ہے۔ ہم خوابوں میں بلند پرواز ہیں۔ یہ الگ بات کہ ہمارے گرد دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔