ہمارے اور بھی محسن ہیں،ہمارے سیاست دان،لیڈر صاحبان۔ قائدین کی بہتات نے قیادت کا فقدان پیدا کر دیا ہے۔ اِتنے لیڈر کہ قوم اکیلی رہ گئی ہے۔ ہر نا عاقبت اندیش کو زعمِ آگہی ہے۔ ہر چرب زبان سیاست دان ہے۔ ہر آدمی ہر دوسرے آدمی کو ہر وقت کچھ نہ کچھ سمجھا رہا ہے۔ سیاست کے فلسفے بیان ہو رہے ہیں۔ جمہوریت کے فوائدپر لیکچر ہو رہے ہیں۔
کالعدم کو سوئے عدم ہی کیوں نہ رخصت کر دیا جائے؟ آج کی سیاست راستے مانگ رہی ہے۔ بھیک مانگ رہی ہے۔ رحم طلب کیا جا رہا ہے۔ اِلتجا،ہمارا پسندیدہ عمل ہے۔
علم والے،آدھے ملک کو آدھے ملک کے خلاف اُ کسا رہے ہیں۔ اِسلام دنیا کو نظام دینے کے لیے آیا اور آج ہمیں لا دین اور بے دین نظام کی افادیت بتائی جا رہی ہے۔ نئی معیشت نئی سیاست کی اَساس ہے۔ شکر ہے کہ ابھی سیاسی ڈھانچے بننے باقی ہیں۔ ابھی اتنی جلدی ہی کیا ہے! مارک ٹائم— ہمارا نعرہ ہے۔ اِک عجب عالم ہے،قیامت ہے کہ رات کب کی ختم ہو چکی ہے لیکن سورج ابھی نہیں نکلا— ابھی شاید طویل منصوبہ بندی کا دَور ہے۔ سوال یہ ہے کہ صف بندی کا زمانہ کب آئے گا۔
عزیزانِ محترم! میری مانو تو آپ کسی کو نہ مانو— کسی کی نہ سنو،اپنی مرضی کرتے جاؤ،حتیٰ کہ وہ وقت آن پہنچے جب ساری قوم اللہ کی رحمت کو پکارنے پر مجبور ہو جائے اور پھر افلاک سے نالوں کا جواب آئے گا۔ دُعا کو تاثیر کا منہ دیکھنا نصیب ہو گا۔ ایمان سینوں میں بیدار ہو گا — اور پھر نکلیں گےغاروں سے طاقتور شیر،اللہ والے،باطن کے شہباز،سلطان الفقراء، شہنشاہِ قلندراں — اور پھر آناً فاناً طوفان کے رُخ موڑ دیے جائیں گے،ٹوٹے ہوئے شیشے—معاف کرنا ٹوٹے ہوئے دِل،جوڑ دیے جائیں گے۔ حق والوں کو حق مل جائے گا،قوم کے روشن مستقبل کا ستارہ طلوع ہو گا، اندیشے دَم توڑ دیں گے اور اُمید کے مسکن جگمگائیں گے—لیکن—کیا کبھی ایسے ہوا—؟ کیا ایسے کبھی ہو گا—؟ کیا ایسے ہو سکتا ہے—؟ اہل ِ باطن کی خدمت میں سوال ہے—!