یہ قوم غریب ہے لیکن لوگ امیر ہیں؟ کاریں ہی کاریں،راہ چلنا دشوار ہے۔ مہنگائی حد سے زیادہ  اور خریداری بھی حد سے زیادہ، عجب عالم ہے۔ خطرات بیان ہو رہے ہیں لیکن کسی پر کوئی اَثر نہیں۔ بیان کرنے والے بھی اپنے عالی شان مکانوں کی تعمیر کرتے جا رہے ہیں۔ جہاں الفاظ اپنے مفاہیم بدل چکے ہوں،وہاں اپنے عہد کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہمارا عہد عجب عہد ہے۔ اِس میں کیا نہیں ہو رہا    —     یہ دَور تضادات کا دَور ہے۔ انسان کے اندر تضاد، اِنسان کے باہر تضاد،خود انسان ہی مجموعۂ اضداد ہے۔ آج کا اِنسان ہمہ وقت مصروف ہے۔ اُس کے پاس فرصت نہیں۔ وہ دوڑتا جا رہا ہے۔ اُس کو کسی نے ایک نا معلوم منزل کی طرف گمنام سفر پر مصروف کر رکھا ہے۔ وہ سب کچھ جاننے کا دعویٰ رکھتا ہے اور دعوے کا مفہوم بھی نہیں سمجھتا
کہ یہی اس کی جہالت کا ثبوت ہے۔

  ہمارا عہدتعمیر وتخریب کا مظہر ہے۔ نئے ادارے،نئے مکانات،نئے ماڈل،نئے آستانے اُبھر رہے ہیں اور پُرانے اور مانوس ادارے ختم ہو رہے ہیں۔ پُرانے ملبے ہٹائے جا رہے ہیں اور نئے شاہکار بنائے جا رہے ہیں۔ یہ دَور قدیم تہذیبی اداروں کے خاتمے کا دَور ہے۔کل کا اِنسان عقیدتوں کا مظہر تھا،لیکن آج کا انسان ہر عقیدت اور ہر عقیدے سے آزاد ہے۔ آج  کا عقیدہ بے عقیدہ ہے۔ آج صرف ایک اِنسان کی پرستش کی جاتی ہے یعنی اپنا آپ —   ہم اپنی اَنا کے پُجاری ہیں۔ ہم اپنی اِن ہی خواہشات کے آگے سجدہ ریز ہیں۔ ہم اپنے علاوہ کسی کو اہم نہیں سمجھتے۔ آج کے ماحول میں خود پسندی ہی پسندیدہ عمل ہے۔ اِنسان آئینہ دیکھتا رہتا ہے۔ وہ نہ آئینے میں اُترتا ہے،نہ اِس سے باہر نکلتا ہے۔ ہر شے میں ملاوٹ ہے۔ کھانے میں، پینے میں، سوچنے میں، عبادت میں، مذہب میں، مدرسے میں، خانقا ہوں میں، سیاست میں، صحافت میں، دَوا میں، دُعامیں، وفا میں،غرضیکہ ہر اَدا میں ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے۔ جو ہے،وہ نہیں ہے۔ ہم وہ نہیں جو نظر آتے ہیں۔ ہمارا وجود اصل وجود سے مختلف ہے۔ ہمارے افکار خالص نہیں، ہماری سوچ صحت مند نہیں، ہمارے چارہ گر— چارہ گر کا لفظ بے معنی ہے۔

ہمارے قائد آج بھی صرف قائدِاعظم ؒہی ہیں۔ اگر قائدِاعظم ؒ   زندہ ہو جائیں تو قائدین کی کثیر تعداد مر جائے۔ ہمارے ہاں کوئی شے بھی تو ایسی نہیں جو بھروسے کے قابل ہو —ہم محسن فراموش قوم ہیں۔ اگر آج اقبالؒ  زندہ ہو جائے تو قوم کے حالات دیکھ کر صدمے سے پھر مر جائے۔ یہ قوم عجب قوم ہے۔ اِسے اپنے حال سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ ماضی کے بزرگوں کی یادیں مناتی ہے اورمستقبل کے لیے کوئی کام نہیں کرتی۔ یہ بے حسی کا شکار ہے۔ پاؤں تلے سے زمین نکلا چاہتی ہے، سر پر آسمان گرا چاہتا ہے اور یہ بی بی رانی ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ اِسے جمہوریت کا اِنتظار ہے کہ ہر بلا کو جمہوریت سے ٹالا جائے گا۔ مدّتیں گزرگئیں اور ابھی تک یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ اِس ملک کا نظامِ حکومت کیا ہو گا!! نظامِ تعلیم کیا ہو گا— نظامِ معیشت کیا ہو گا۔ نظامِ عقیدہ کیا
ہو گا۔ اِسلام ہو گا تو کون سا ہو گا۔ فقہ کون سی ہو گی— زبان کیا ہو گی۔ قومی لباس کون لوگ کب پہنا کریں گے۔ صحافت کس نہج پر اُستوار ہو گی اور سیاست کا دائرہ کیا ہو گا۔ اِس ملک میں مقبول ترین بیانات وہ ہیں جن میں” گا“،”گے“،”گی“ ہو۔ ہر چیز ہو گی، سب کچھ ہو گا—سب انتظامات کر لیے جائیں گے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سب کی بگڑی بن جائے گی — سب بادل چھٹ جائیں گے۔ سب کچھ یہیں رہے گا— افسوس! ہم نہ ہوں گے۔

  چارہ گروں کے لیے نوید ہے کہ مریض زیادہ دیر اُن پر بوجھ نہیں ڈالے گا۔ چاروں صوبےچاروں عناصر کی طرح ابھی ظہورِ ترتیب میں ہیں۔ منتشر ہونے کا اندیشہ خاکم بدہن بعید اَز قیاس بھی نہیں۔ ابھی جمہوریت نے گُل کھِلا نے ہیں ابھی اور بھی شگوفے پھوٹیں گے۔ ہم سب کرنیں ہیں جو اپنے سورج کو مسلسل چاٹ رہی ہیں۔ یہ سورج ابھی اللہ کے فضل سے قائم ہے لیکن ہمارا عمل بد اعمالی کے سِوا کیا ہے۔ ہم نے غور کرنا چھوڑ دیا —  ہم مستقل اِنتظار میں ہیں۔ کوئی آئے گا، جگائے گا، ہم سے کام لے گا—ہم عظیم قوم بن جائیں گے—لیکن ابھی نہیں شاید—!

  ابھی اِسلام نے نافذ ہونا ہے۔ مسلمانوں پر اِسلام نافذ ہونے میں ابھی کچھ دیر ہے— یا تو مسلمان وہ نہیں رہے،یا اِسلام وہ نہیں جو دِلوں پر پہلے دن سے نافذ ہو جاتا تھا۔یا اللہ!  ہم کہاں سے چلے تھے، کہاں آگئے۔ میرے مولا!—ہمیں جگا—لیکن نہیں— خدا جگائے گا تو جھٹکے سے آنکھ کھلے گی۔ جس کو اِحساس نہ جگائے،اُسے کون جگا سکتا ہے۔ میرے مولا! ہماری بے حسی کو بے حیائی نہ بننے دے۔ میرے آقا! ہم نا اہل ضرور ہیں،لیکن تیرے حبیبؐ کے نام لیوا ہیں۔  ہم پر رحم فرما—ہمیں ہمارے فرائض سے آشناکر۔ ہمیں ایک قوم بنا۔ ہم پر نازل فرما—اپنے کرم،اپنی رحمتیں!

Pages: 1 2 3 4