ہم اِحسان فراموش قوم ہیں۔ اپنے اَسلاف کی محنتوں کو برباد کرنے والی قوم—ہم بحث کرنے والی قوم ہیں۔ ہمارے پاس بڑے اخبار ہیں اور وہ  خبرکسی اخبار میں نہیں ہوتی جس خبر کی ضرورت ہے—جو خبر اہم ترین ہے۔

   ہم نے اپنے آپ کو دشمن کی نگاہ   سےکبھی نہیں دیکھا۔ اُس کے سامنے ہم سب ہم عقیدہ ہیں۔ دشمن یہ نہیں دیکھتا کہ شیعہ کون ہے سُنّی کون۔ ہم بھول گئے اُس عہد کو جو ہم نے اپنے آپ سے کیا تھا،قائداعظمؒ سے کیا تھا،اِقبالؒ سے کیا تھا،مسلمانانِ ہند  سے کیا تھا،مسلمانان ِعالم سے کیا تھا،خدا سے کیا تھا۔ ہم سب کچھ بھول گئے۔ ہم یادداشت کھوبیٹھے ہیں۔ ہماری تاریخ بدل گئی،جغرافیہ بدل گیا،ہماری شناخت بدل گئی،تشخص مسخ ہو گیا۔ ہم،ہم نہ رہے اور پھر طُرفہ عذاب کہ ہم پر اثر بھی نہ ہوا۔

 ہمارے مشائخ ،خدا بھلا کرے اِن بزرگوں کا،اب ویسے نہیں جیسے اِن کے آباء تھے۔ آستانے وہی ہیں،مگر بات وہ نہیں۔ طریقت اپنے طریقے بدل گئی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب جھوٹے ہیں۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ سب سچّے نہیں۔ کیوں نہیں؟ جھوٹے کی نشان دہی کون کرے گا؟ جب قرب ِسلطان مسلک بن جائے تو راہ ِسلوک مسدود ہو جاتی ہے۔ جب اہلِ باطن،اہل ِثروت کا تزکیہ نہ کریں تو    اُن کا تقرّب حرام ہے۔ جب فقراء اِسلامی ملک میں بھی اِخفاءسے کام لیں تو مصلحت اندیشی ہے اور مصلحت اندیش،درویش نہیں ہو سکتا۔ خانقاہ کا اِدارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ کسی کو غم نہیں،کسی کو فکر نہیں۔ میں صرف اُس انسان سے مخاطب ہوں جو اِس وقت باطنی نظام میں فائز ہے۔ وہ قوم میں موجود بے راہ روی کی ذِمہ داری قبول کرتا ہے یا صرف اپنے مرتبے ہی میں مگن ہے؟ہم اُس سے سوال کرتے ہیں کہ عالی مرتبت!  ہم آپ کا انتظار کریں کہ اپنا بیڑہ خود ہی پار کریں۔ خوابیدہ قوت سے بیدار کمزوری بہتر ہے۔

  لاخوف کی منزلیں طے کرنے والو! ساری ملّت کو خوف زدہ ہی رکھنا ہے کہ لاتقنطوا   کی شرح بھی ہو گی۔ وقت کے غوث،قطب،ابدال،قلندر کیا کر رہے ہیں۔ ہمارے اکابرین ذرا دھیان کریں۔ اے صاحبانِ بصیرت! ہم لوگ راستہ بھول گئے۔ کہاں ہیں رجال الغیب،پکار ہے پکار ہے، فریاد ہے فریادہے —کوئی بے بصر مرید میری اِس بے باکی کو گستاخی نہ سمجھے—   یہ ہماری اُن کی بات ہے— راز و نیاز کی رمزیں ہیں۔

                اور،ہمارے علماء—’’فی سبیل اللہ فساد“—لیکن نہیں۔ سب علماء نہیں۔ قابلِ قدر تو قابلِ قدر ہیں۔ علم والے تو علم دے رہے ہیں۔ لاکھوں مساجد کے لاکھوں آئمہ— پانچ وقت تبلیغ کر رہے ہیں اور اِس نا اہل قوم کا ذمہ دار کون ہے؟ اب اُس نا اہل ڈاکٹر کی طرح یہ نہ کہنا کہ ہم نے تو اپنا فرض پورا کیا آگے مریض کا مقدّر—قوموں کے لیے ایسے نہیں ہوتا۔ ذِمہ داری
لی جاتی ہے۔ صرف فرض پورا نہیں کیا جاتا۔ اگر خدا نخواستہ قوم کو کوئی حادثہ پیش آیا تو تم بھی نہ رہو گے— نہ اہل،نہ نا اہل— سب ہی ایک کشتی میں سوار ہیں۔ زندگی میں آخرت کا عمل سکھانے والو— زندگی کا عمل کب سکھاؤ گے؟

Pages: 1 2 3 4