اللہ کی تلاش کرنے والے انسانوں کی راہوں سے گزرتے ہیں۔ انسان ہی متلاشی ہے اور انسان ہی مظہرِ صفات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، اپنے اظہار کے لیے۔ انسان کو صلاحیتیں عطا فرمائیں تاکہ وہ اِس کائنات کے بارے میں اور اِس کے خالق کے بارے میں غور کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذریعے اپنا اور اپنی مخلوق کا تعارف کروایا۔ ہم ہر روز دُعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں سیدھی راہ دکھا، یعنی اُن انسانوں کی راہ جن پر تیرا انعام ہوا۔ گویا انعام یافتگان کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے، خدا کا راستہ ہے۔
وہ لوگ جو اِنسان کو چھوڑ کر یا انسان سے منہ موڑ کر خدا کی تلاش کرتے ہیں، کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ کی کتاب انسانوں کے تذکرے اور انسانوں کے انجام کے بارے میں آگاہی دینے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بلند مقام عطا فرمایا۔ انسان کے آگے فرشتوں کو جھکا دیا۔ انسان کو اللہ کے راستے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ نے اپنا گھر انسانوں کے ذریعے بنایا۔ اللہ کے ذکر کے لیے انسانی زبان اور اللہ کی یاد کے لیے انسانی دل درکار ہیں۔ اللہ کی خوشی انسان کی خدمت میں ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ انسانوں کی خدمت کرو،بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، سائل کو جھڑکی نہ دو،یتیم کا مال ہرگز نہ کھاؤ، کیے ہوئے وعدے پورے کرو، نرم خُو اور نرم دل ہو جاؤ، زمین پر اکڑ اکڑ کر مت چلو۔
یہ تمام احکام اللہ کے ہیں اور انسان کی خدمت کے لیے ہیں۔ اللہ کی رضا انسان کو خوش رکھنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ماں باپ کے آگے اُف نہ کرو،اُن کو جھڑکی نہ دو،اُن سے نرم الفاظ میں بات کرو۔وہ جب بڑھاپے میں پہنچیں تو اُن کے لیے رحمت کے بازو پھیلا دو“۔ خدمت ماں باپ کی اور خوشی اللہ کی !— یہی بات غور طلب ہے کہ اللہ کہاں ہے؟ سجدے میں اللہ ملتا ہے لیکن مسکین کو کھانا کھلانے میں اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ انسان نے جس مقام پر انسانوں کو چھوڑ کر خدا سے محبّت کا دعویٰ کیا، وہ اکثر غلط نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ،اپنے کلمے کے ساتھ انسان کا اسم بلند کیا۔ اپنا کلام انسانی قلب پر نازل فرمایا اور اپنے دین کی تبلیغ انسانوں کے ذریعے کی، انسانوں کے لیے — !
اللہ کے بارے میں جتنی بھی آگاہی دنیا میں موجود ہے، جتنا بھی بیان اور علم موجود ہے، سب انسان کے ذریعے سے ہے۔ اللہ جن انسانوں کو اپنے قریب رکھتا ہے، انہی انسانوں کو انسانوں کے قریب کر دیتا ہے، یعنی جو شخص اللہ کے ہاں جتنا محبوب ہوگا، اُس کے لیے انسانوں کی دنیا اتنی ہی محبوب ہو گی۔ اس لیے جو انسان محبوبِ ربّ العالمینؐ ہے، وہی انسان رحمۃللعالمینؐ ہے۔ اللہ کے ساتھ محبّت کرنے والے انسانوں سے بیزار نہیں ہو سکتے اور انسان سے بیزار ہونے والے اللہ کے قریب نہیں ہو سکتے۔
دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی محبّت اور خدا کی محبّت میں کیا فرق ہے؟ اللہ کے حوالے کے بغیر انسان کی محبّت یا انسان کی خدمت ہمیں غافل کر سکتی ہے، عاقبت سے بے خبر رکھتی ہے اور ہم اِس دنیا اور اِس زندگی میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف اخلاقیات، الٰہیات کے بغیر، معاشرے کو گمراہ کر سکتی ہے۔ مثلاً اگر ہم غریب کی مدد کریں تو یہ نیکی ہے۔ یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، لیکن یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ ہمیں جاننا چاہیےکہ جس مال سے ہم غریب کی مدد کر رہے ہیں، وہ مال حرام کی کمائی نہ ہو کیونکہ حرام کی کمائی کہیں نہ کہیں سے ظلم یا دھوکے کے ذریعے آتی ہے۔ لہٰذا غریب کی مدد کرنے کی نیکی ایک بدی کو جنم دے سکتی ہے۔
اسی طرح رشوت کی دولت سے اگر حج کیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ہی نہیں، اُس کے نظام کے خلاف بغاوت ہے۔ لازم یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے قانون کے مطابق کمائی ہوئی دولت سے غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی خدمت کرے۔ مسکین یا بھوکا کوئی بھی انسان ہو، اسے کھانا کھلانے سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ یہاں دین کی کوئی قید نہیں۔ بھوکے آدمی کو کھانا کھلانا ہے لیکن کھانا کھلانے والا انسان احتیاط کرے اور غور کرے کہ اس نے یہ کھانا کہاں سے حاصل کیا۔ ناجائز کمائیوں سے بنے ہوئے محلّات پر لکھ دینا کہ یہ اللہ کے فضل سے بنا ہے، ایک ظلم ہے۔