ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اے نبیؐ ! کہہ دیجیے کہ اگر تم لوگوں کو اللہ سے محبّت ہے تو میری اطاعت کرو، اللہ تم سے محبّت کرے گا“۔ یعنی اللہ کی محبّت انسان کے حوالے کے بغیر منظور ہی نہیں ہو سکتی۔ ہم اللہ سے محبّت کریں اور پیغمبرؐ کی نفی کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ ہم سے محبّت کرے۔ رابطے کے لیے انسان اور انسانِ کاملؐ کا ہونا شرطِ اوّل ہے— اور اُس انسانِ کاملؐ کی زندگی اللہ کی یاد میں اور انسانوں کی خدمت میں گزری۔
عرفانِ الٰہی کے لیے مقامِ انسانیت کو پہچاننا ضروری ہے۔ انسانوں سے محبّت کرو۔ یہی اللہ سے محبّت کا ایک پہلو ہے۔ اللہ کی منزل کے سفر پر انسانوں کے ڈیرے ہیں۔ یہ راستہ انسانوں میں سے گزرتا ہے۔ اللہ کا ذکر کرنے والے،اللہ کے نام پر نثار ہونے والے،اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے، اللہ کی یاد میں بے خبر ہونے والے— سب اللہ کے مظاہر ہیں۔ ان مقامات سے گزرے بغیر توحید کا سفر ممکن نہیں۔ زمین پر رہنے والوں کا خیال رکھو، آسمان والا تمہارا خیال رکھے گا۔ اللہ کے نام پر ہی بعض اوقات اللہ کے بندوں پر ظلم ہوا، اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انسانوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ انسان کے ذریعے ہی سے منزلیں حاصل ہوتی ہیں۔ وحدت کے جلوے کثرت میں پنہاں ہیں لیکن اس کے سمجھنے کے لیے احتیاط اور استادِ کامل
کی ضرورت ہے۔