اللہ کے ہاں انسانوں کے تذکرے ہیں۔ جب ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے اپنے ارشاد کے مطابق وہ ہمارا ذکر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی کتنی اہمیت ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ساری کائنات کی وسیع و عریض تخلیق میں سب سے اشرف مخلوق انسان ہے۔ انسان کا مقام یہی ہے کہ اسے ”احسن ِ تقویم“ بنایا گیا۔ اگر کسی انسان کا دِل توڑ دیا جائے تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے۔کسی انسان کو حق سے محروم کر دیا جائے، اللہ کو ناپسند ہے۔ جو زمانہ اللہ کی منشا کے مطابق ہوتا ہے، وہ انسان کی سرفرازی کا دَور ہوتا ہے،انسان کے حقوق کے تحفظ کا دَور ہوتا ہے، انسان کی عزت ِ نفس کے لحاظ کا زمانہ ہوتا ہے۔
انسانیت کی عزت ہی خدا کے احکام کی بجا آوری میں ہے۔ نیکی دراصل انسانوں کے ساتھ نیک سلوک کا نام ہے، خالی نیکی تو کوئی نیکی نہیں۔ ہم نیکی انسان کے ساتھ کرتے ہیں، انعام اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے۔ ہم غریب کی خدمت کرتے ہیں، سخاوت کی منزل پاتے ہیں۔ غریب انسان ایک لحاظ سے محسن ہے کہ وہ سخی ہونے کا موقع دیتا ہے۔ اگر اللہ کی طرف رجوع ہو تو لوگ غریبوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُن کی خدمت کریں، اُن کی مدد کریں۔
عبادت اُس مقام پر نہیں پہنچا سکتی ،جہاں غریب کی خدمت پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم فرمایا، غریب کے لیے۔ اللہ کے پاس زمین و آسمان کے خزانے ہیں۔ وہ مالک ہے، وہ خود عطا کر سکتا ہے، پھر زکوٰۃ کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا کہ اپنے جمع شدہ مال میں سے غریب بھائی کی خدمت کرے تاکہ وہ پیسہ جو سنگدلی پیدا کر رہا ہے، فراخدلی پیدا کرے۔ نظامِ خیرات، صدقات اور بیت المال سب غریبوں کے لیے ہے تاکہ جو لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں، اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُن کو بھی ساتھ چلا دیا جائے، ورنہ اِس چند روزہ زندگی میں سفر تو سب کا کٹ ہی جائے گا، اور پھر اِس کے بعد ایک ایسا دَور آئے گا، ایک ایسا دن ہوگا،جب انسان سے پوچھا جائے گا کہ اُس نے اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کس طرح استعمال کیں، اُس نے انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
ہماری نیکیاں انسان کے ساتھ، ہماری بدی انسان کے ساتھ، یعنی نظامِ ثواب و گناہ انسانوں ہی کے ذریعے سے مرتّب ہوتا ہے۔ اگر ہمارے علاوہ دنیا میں اور کوئی انسان نہ ہو تو ہمارے لیے نہ کوئی جزا ہے، نہ سزا— ہم جمادات و حیوانات میں سے ہو جائیں گے۔ انسانوں کے دَم سے ہی رونقیں ہیں۔ اللہ کے نام پر انسانوں کے ساتھ سنگتیں بنتی ہیں۔ اللہ کے خوف سے انسانوں کے ساتھ نیکیاں کی جاتی ہیں۔ یہی خوفِ الٰہی ہمیں گناہوں سے بچاتا ہے۔ ہم دوسروں کے حقوق پامال نہیں کر سکتے، اِس لیے کہ ہم اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ہم ایک بتائے ہوئے راستے کے مطابق سفر کرتے ہیں کہ وہ راستہ ہمیں اللہ نے اپنے پیغمبرؐ کے ذریعے بتایا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی عملی شکل پیغمبرؐ کی حیاتِ طیبّہ میں نمایاں ہوتی ہے۔
پیغمبرؐ کی ذات اِس لیے بھی اہم ہے کہ اِس ذات میں ثبوت ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ اِس ذات کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ زندگی صرف عبادت نہیں ہے، زندگی کوشش ہے،زندگی جہاد ہے، زندگی محبّت ہے، زندگی فتوحات ہے، زندگی تنہائی بھی ہے، مجلس بھی ہے، زندگی تنہائی کا سجدہ بھی ہے اور محفلوں کی رونقیں بھی ! اللہ کی محبّت، انسانوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص مقرّبِ الٰہی ہو اور انسان کی محبّت سے محروم ہو۔ یہ دعویٰ شیطانی ہے کہ ہم صرف اللہ سے محبّت کرتے ہیں اور مخلوق سے کچھ سروکار نہیں— یہ غرور ہے،تکبر ہے۔ شیطان نے انسان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور نتیجہ یہ کہ خدا کے آگے کیے ہوئے سجدے بھی رائیگاں ہو گئے۔ ہمارا سارا نظامِ عبادت انسانوں سے مرتّب ہے، ہماری دُعائیں بالعموم اجتماعی ہیں — اے ہمارے رب! ہم پر رحم فرما— ہمیں سیدھی راہ دکھا— ہم پر ہماری ہستی سے زیادہ بوجھ نہ ڈال —ہمیں گناہوں سے بچا۔ گویا منشائے الٰہی یہی ہے کہ ”میں“ سے ’’ہم“ بنا جائے۔ ”ہم“ کے بغیر ”تم“ کی عبادت جھوٹ ہے۔ ایک مقام پر انسان کو تنہا رکھا گیا ہے— سجدہ— اللہ کی عظمت بیان کرتے وقت—!!