ہمارا سارا منظر اور پس منظرانسانوں سے ہے۔ غور کیا جائے تو کوئی انسان، انسانوں کی وابستگی کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ مثلاً میرے پاس صرف آنکھیں ہیں، نظر ہے، لیکن میرا منظر انسانوں کے چہرے سے بنا ہے۔ اگر منظر نہ ہو تو نظر کس کام کی؟ اسی طرح میری سماعت محتاج ہے، انسانوں کی آواز کی۔ میرے اردگرد بولنے والے انسانوں کا ہجوم نہ ہو تو میرے کان بیکار ہو جائیں۔ اللہ نے انسانوں کو بیان عطا فرمایا۔ یہ بڑے غور کا مقام ہے، کہ بیان سننے والا نہ ہو تو بیان کیا بیان ہوگا۔ میری زبان محتاج ہے، سننے والے کانوں کی۔میرا دل محتاج ہے، انسان کے چہرے کی محبّت کا۔ میرے جذبات، میرے احساسات سب انسانوں سے وابستہ ہیں۔
مجھے راہنمائی چاہیے، کسی انسان کے ذریعے! اللہ کی منزلوں تک پہنچانے والا، اللہ کا بندہ ہی ہوگا۔ میں نیکی، بدی، گناہ و ثواب، خوشی اور غم جو کچھ بھی حاصل کروں گا،انسان کے ذریعے۔میری زندگی انسانوں کے ذریعے سے گزرے گی۔ ہمیں بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ میری پیاس بجھانے والا پانی کتنے ہاتھوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ہمارے پاؤں کے نیچے جو سڑک ہے، اس کے بننے میں کتنے سال اور کتنے انسانوں کے پسینے لگے ہوئے ہیں۔ آنکھ کھول کر چلے، تو انسان کو انسانوں کے احسانات نظر آئیں گے۔ ان انسانوں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔جس نے انسان کا شکریہ ادا نہ کیا، اُس نے خدا کا کیا شکر ادا کرنا ہے۔ جس انسان نے ماں باپ کو پرورش کرتے ہوئے دیکھا اور انہیں نہ مانا، اُس نے خدا کو دیکھے بغیر کیا ماننا ہے!
اللہ تعالیٰ انسانوں ہی کی دنیا میں اپنے جلوے دکھاتا ہے۔ انسان خاموشی سے دُعا مانگتا ہے، اللہ خاموش دُعاؤں کو سنتا ہے، منظور فرماتا ہے۔ اللہ کے جلوے انسانوں کے روپ میں ہر ہر جگہ نظر آ سکتے ہیں۔ یہ جہان اللہ کی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اللہ کے بندوں نے اللہ کی یاد کے چراغ جلا دیے اور ان چراغوں کی روشنی میں آنے والے انسانوں کو نئی منزلوں پر چلنے کی توفیق دی۔ اللہ کی تلاش بہت آسان ہے۔ وہ انسانی شہ رگ سے قریب ہے، بہت قریب لیکن اس تک رسائی حاصل کرنا اس لیے مشکل ہے کہ انسان، انسان ہے اور اللہ، اللہ! حادث، قدیم نہیں ہو سکتا اور قدیم ،حادث نہیں ہو سکتا۔ بس فرق یہی ہے کہ ہم ساجد ہیں، وہ مسجود۔
ہم پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں، اور وہ پیدائش اور موت سے آزاد، حیّ و قیّوم ہے۔ وہ ہر آغاز سے پہلے موجود تھا اور ہر انجام کے بعد موجود رہے گا۔ وہ اتنا قریب ہے، لیکن اسے دیکھا نہیں جا سکتا — جس طرح ہم اپنی بینائی کو خود نہیں دیکھ سکتے، لیکن بینائی ہمارے قریب رہتی ہے۔ ہماری روح ہمارے پاس ہے لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ ہماری ذات ہر وقت ہمارے ساتھ ہے لیکن اپنی ذات کا دیدار ممکن نہیں۔ سمندر میں رہنے والی مچھلی سمندر کو دیکھ نہیں سکتی۔ پانی سے نکلے بغیر سمندر نظر نہیں آتا اور پانی سے نکلے تو مچھلی، مچھلی نہیں رہتی۔ بس اللہ کے جلوے، اللہ کے جلوے ہیں— پاس ہیں، ساتھ ہیں، لیکن کیا ہیں— اور کہاں ہیں، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے — اور اللہ کی محبّت کی انتہائی عملی شکل اللہ کے محبوبؐ کی اطاعت اور محبّت میں ہے۔