یہ تو سب کو معلوم ہے کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے — اور مغرب میں غروب ہوتا ہے — سورج ڈوب جائے تو رات آ جاتی ہے — تاریکی اپنے حُسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے — اور پھر صبح ہوتے ہی وہی عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ سورج اور زمین کے مدار کی نسبت سے موسم بدلتے ہیں،بہار میں پھول کھلتے ہیں، خزاں میں پت جھڑ ہوتی ہے۔ایک خاص موسم میں پرندے ایک خاص انداز سے آشیانے بناتے ہیں،بڑے بڑے خوبصورت آشیانے، اور پھر آشیانے خالی رہ جاتے ہیں اور پنچھی اُڑ جاتے ہیں— کسی نامعلوم منزل کی طرف—!
کون نہیں جانتا کہ آسمان سے نُور نازل ہوتا ہے،حُسن اُترتا ہے، روشنی آتی ہے اور بارشیں ہوتی ہیں۔ بارش اور روشنی نہ ہو تو زمین، زمین نہ رہے۔ سب جانتے ہیں کہ زمین کا حُسن، آسمان کی عطا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ روشنی کے اِس عظیم پھیلاؤ کے باوجود کچھ مقامات اَزل ہی سے تاریک چلے آ رہے ہیں — کیوں؟ اَبرِ رحمت برستا ہی چلا جاتا ہے اور کچھ لوگ بُوند بُوند اور قطرے قطرے کو ترستے ہی رہتے ہیں۔ ایک کھیت میں جل تھل ہوتا ہے اور ساتھ والا بے آب عذاب سے جل جل جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
ایک خاص مقرر شدہ لمحے میں زندگی پیدا ہوتی ہے اور ایک اتنے ہی خاص اور مقرر شدہ لمحے میں مر جاتی ہے۔ آدمی مر جاتے ہیں اور زندگی پھر بھی زندہ رہتی ہے۔ یہ کیا راز ہے؟
ایک بچہ پیدا ہوتے ہی حسرتوں اور مایوسیوں کی گود میں ڈال دیا جاتا ہے اور دوسرا بچہ — فراوانیوں سے کھیلتا ہوا، زندگی کے درد اور کرب سے نا آشنا،پروان چڑھا دیا جاتا ہے۔ انسان برابر ہیں لیکن معلوم نہیں کہ کیسے برابر ہیں۔ ہم نے تو موت کے یکساں عمل کے باوجود قبروں کو یکساں حالت میں نہیں دیکھا۔ ایک مزار پر تو ہجومِ عاشقاں نے میلے لگا رکھے ہیں اور دوسرا مزار تو ”مزارِ غریباں“ ہی رہتا ہے۔ یہ کیا راز ہے کہ آباد، مہذب اور متمول شہروں کے اندر خانہ بدوشوں کے پھٹے ہوئے خیمے موجود ہوتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے کہ میڈیکل سائنس ترقی کرتی جا رہی ہے اور ہسپتالوں میں مریض بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ انسان قہقہے لگاتے لگاتے کراہنے لگ جاتا ہے — معلوم عمل میں نامعلوم عمل شروع ہو جاتا ہے۔
یہ تو معلوم ہے کہ بچے ایک جیسے ہوتے ہیں، ساخت کے اعتبار سے، لیکن ایک گھر میں پلنے والے جڑواں بھائی بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ احساس مختلف ہو جاتے ہیں۔ ایک انسان شعر کہنے لگ جاتا ہے اور دوسرا، ہمیشہ دوسرا ہی رہتا ہے۔ یہ کیا کرشمہ ہے کہ ایک لقمے سے خون بھی بن جاتا ہے، ہڈیاں بھی، بینائی بھی، رعنائیِ خیال بھی — اور حسن و جمال بھی — لقمے سے کیسے کیسے کرشمے پیدا ہوتے ہیں — کیوں؟