ہم سب کو معلوم ہے کہ ایک معمولی سا پانی کا قطرہ ایک بے جان سیپ کے باطن میں اُتر جاتا ہے اور پھر وہی سیپ اِس میں جان ڈالتی ہے — اور اِس قطرے کو ایک ایسے انوکھے اور نرالے عمل سے گزارتی ہے کہ وہی معمولی قطرہ ایک گوہرِ تابدار بن جاتا ہے۔ سیپ میں شعورِ مخفی رکھا گیا ہے؟ یہ بجا ہے کہ سائنس نے موتی کلچر کیے ہیں، لیکن صرّاف کے پاس جاتے ہی قلعی کھل جاتی ہے۔ نقل دو کوڑی کا اور اصل دُرِّبے بہا۔ میاں محمد بخش ؒ نے کیا خوب فرمایا ہے:
؎ کچ وی منکا،تے لعل وی منکا، اِکّو رنگ دوہاں دا
جدصرّافاں اَگّے جاون تے فرق ہزار کوہاں دا
(اصل اور نقل کا رنگ ایک ہی ہوتا ہے، لیکن جاننے والے کی نگاہ میں اِن میں ہزار ہا میلوں کے فاصلے ہوتے ہیں۔)
ہم علم رکھتے ہیں کہ محنت سے اِنسان کو مقصد حاصل ہو جاتا ہے، لیکن یہ نہیں معلوم کہ تمام محنتیں کیوں بار آور نہیں ہوتیں۔ کامیاب لوگ بھی محنت کرتے ہیں اور ناکام بھی۔ اَمیر محنت کرتے ہیں اور غریب اُس سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ پھر بھی وہ غریب رہتے ہیں۔ کیا کوشش کے علاوہ کوئی اور عمل بھی اِنسان پر کارفرما ہے؟ کیا اُسے نصیب کہتے ہیں؟ نصیب کیوں ہوتا ہے؟ انسان اپنے نصیب سے کیوں باخبر نہیں ہوتا؟ کیا نصیب ظالم بھی ہو سکتا ہے؟ —یہ معلوم نہیں۔
ساکن فضاؤں میں خاموش زندگی کے دوران اچانک زلزلے کا ہنگامہ کیا ہے؟ بستیاں زیر و زبر ہو جاتی ہیں۔پختگیاں تَہ و بالا کر دی جاتی ہیں۔ ہنسنے کھیلنے والی زندگیاں بے سبب ہی ملبے تلے دب کر مر جاتی ہیں — یہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟
ہم دیکھتے ہیں کہ پہاڑ، خاموش پہاڑ، پتھروں کے ڈھیر کب سے پڑے ہوئے ہیں۔ اِن کی حقیقت کیا ہے۔ پتھر ہیں، لیکن اِن پتھروں کے درمیان عجب کھیل ہوتا ہے۔ پانی ہے، آگ ہے اور مٹی ہے۔ مٹی میں ملی ہوئی دھاتیں ہیں۔ سونا،چاندی، تانبا، غرضیکہ ہر طرح کی قیمتی دھاتیں۔ یہ بے نام سے پہاڑ، پتھروں کا ڈھیر، اپنے اندر، اپنے پہلو میں بیش بہا قیمتی خزانے لیے بیٹھے ہیں۔ لکڑی کے نہ ختم ہونے والے خزانے، معدنیات کے نہ ختم ہونے والے ذخیرے، سنگِ سرخ، سنگِ سیاہ اور سنگِ مر مر — خزانے ہی خزانے — نہ ختم ہونے والے سٹور — کہیں نمک کی نہ ختم ہونے والی کان اور کہیں کوئلے کے ذخیرے — اور حیران کن بات کہ انہی کوئلوں کے ذخیروں کے آس پاس بیش بہا قیمتی ہیرے پائے جاتے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ چمکتے دمکتے ہیرے دراصل کاربن ہی کی ایک شکل ہے۔ کاربن کو یہ خوبصورت شکل اختیار کرنے کا شعور کیسے مل گیا؟ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے — یہ معلوم نہیں ہو سکا!!
ہمیں معلوم ہے کہ سمندر گہرے اور وسیع پانی کا پھیلاؤ ہے، لیکن اِس وسیع پھیلاؤ کے اندر جانے والوں نے عجیب و غریب کرشمے دریافت کیے ہیں، جنہیں دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اِن سب کرشمہ کاریوں کی وجہ سائنس معلوم نہیں کر سکی۔