اِنسان کو یہ تو معلوم ہے کہ ایک چھوٹی سی آنکھ پل بھر میں بے شمار مناظر دیکھ سکتی ہے۔  زمین سے آسمان تک پھیلا ہوا سلسلہ آنکھ کی دسترس میں ہوتا ہے۔ انسان کی بینائی کیا کچھ نہیں دیکھتی، لیکن انسان اگر اپنی بینائی کو دیکھنا چاہے تو وہی بے بسی — لاعلمی!

ہمیں معلوم ہے کہ جو   اَدوار  اور جو زمانے ختم ہو چکے، وہ ختم ہو گئے۔ جو گزر گئے،وہ گزر گئے — لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ختم ہونے والا ختم ہی نہیں ہوتا۔ ختم ہونے والے واقعات ہماری تعلیم کا حصہ بن جاتے ہیں اور یہ تعلیم موجودہ زمانے کا علم کہلاتی ہے۔ گویا ناموجود زمانہ، موجود   زمانے کا علم ہے۔ ایک طرف ہمارا مشاہدہ، ہمارا علم ہے اور دوسری طرف ہمارا مطالعہ ہمارا علم ہے — اور کبھی کبھی ہمارا غور  وفکر  اور ہمارا  مراقبہ بھی ہمارا علم ہوتا ہے۔ اگر گزری ہوئی شے کو اور گزرے ہوئے زمانے کو یکسر نکال دیا جائے تو ہمارے علم کے پلّے کیا رہ جاتا ہے؟

تمام ادب، تمام فلسفہ، تمام تاریخ، تمام عمرانیات اور  تمام مذہبیات اور سیاسیات بھی اپنے مفاہیم اور معانی کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمارا دین عہدِ گزشتہ کی تعلیم سے ماخوذ ہے۔ ہمارے عقیدے عہدِگزشتہ سے متعلق ہیں۔ ایک جلیل القدر پیغمبرؑ نے خواب دیکھا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا۔ آپ ؑ نے اپنے فرزند سے خواب بیان کیا۔ آدابِ فرزندی سے آشنا بیٹا بولا: ”آپ ؑ وہ کریں،  جو آپ ؑ    کو حکم ہوا“۔ بیٹے کو لٹایا گیا۔ چھری چلائی گئی، لیکن نہ جانے کیوں اور کیسے،بیٹے کی جگہ ایک دُنبہ پایا گیا۔ چلو یہ واقعہ تو ہوا، سو ہوا۔ بہت قدیم زمانے کا واقعہ ہے، لیکن یہ واقعہ آج تک ہوتا جا رہا ہے۔ اِسی واقعہ کی یاد میں آج تک قربانی ہو رہی ہے۔ یہ ماضی کیوں نہیں ماضی ہوتا؟ بھولا ہوا دَور کیوں نہیں بھولتا؟ گزر اہوا زمانہ کیوں نہیں گزرتا؟ رُلانے والے صدمات گزر گئے، لیکن وہ ابھی تک کیوں رُلاتے ہیں؟ کربلا کا واقعہ بہت پرانا ہے، لیکن کربلا ہر دَم تازہ ہے۔ کون ہے جو ماضی کو حال بنا رہا ہے؟ وہ جو نظر کے سامنے ہے، وہ بھی ہمارا اپنا — اور جو نظر کے سامنے نہیں ہے، وہ بھی ہماری نگاہ میں ہے۔ یہاں تک کہ آنے والے زمانے بھی کچھ لوگوں کی نگاہوں میں ہوتے ہیں۔ کوئی انسان قدسیوں کے پاس پہنچ جاتا ہے اور اُن سے سنتا ہے کہ وہ خاص راز آشکار ہونے والا ہے۔

وہ راز کیا ہے جو بیان ہوتا جا رہا ہے اور آشکار نہیں ہوتا۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ ایک راز ہے، لیکن راز کیا ہے؟ اِس سے سب بے خبر ہیں کیونکہ وہ تو ابھی آشکار نہیں ہوا۔ سب کہتے ہیں کہ بہت جلد کچھ ہونے والا ہے، لیکن کیا؟ اِس بارے میں سب خاموش ہیں۔ ہماری زندگی ماضی اور مستقبل کے بارے میں غور کرتے گزر جاتی ہے، یعنی حال — ماضی اور مستقبل کے بے ہنگم سنگم میں رہتا ہے۔ ہم آزاد ہونے کے باوجود اتنے بے بس کیوں ہیں کہ ہم نہ  ماضی سے نجات پا سکتے ہیں اور  نہ مستقبل کے خیال ہی سے باہر نکل سکتے ہیں؟ کیا ہم جکڑ کر رکھ دیے گئے ہیں؟ کیا ہماری آزادی اور نجات کی کوئی صورت نہیں؟ جو نہیں ہے، ہمارے لیے تو وہی ہے۔ ماضی گیا، ختم ہو گیا —لیکن نہ جاتا ہے، نہ ختم ہوتا ہے۔ مستقبل ابھی پیدا ہی نہیں ہوا، لیکن ہمارے ساتھ کون باتیں کرتا ہے؟ ہمارے خواب کون بناتا ہے؟ ہماری امّیدیں، ہمارے خدشات کون مُرتّب کرتا ہے؟

ہمیں اتنا کچھ معلوم ہونے کے باوجود، کتنا کچھ معلوم نہیں— کیوں؟

Pages: 1 2 3 4