بے رنگ زمین میں ہم بے رنگ بیج بوتے ہیں، اسے بے رنگ پانی دیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد اُس سے رنگ رنگ کے پھول کِھلتے ہیں۔ وہی پانی پتوں میں سبز ہو جاتا ہے اور گلاب میں سرخ — کیا پانی، بیج اور مٹی اپنا خاص شعور رکھتے ہیں؟

آج بھی اِسی بے جان زمین میں جب کوئی مردہ بطور امانت دفن کیا جائے تو وہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ میّت کے پھول تک نہیں مرجھاتے — کیا زمین سماعت بھی رکھتی ہے؟

سب جانتے ہیں کہ گائے ایک خوبصورت جانور ہے — مسلمان اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ ہندو اِس کی پرستش کرتے ہیں۔ گائے دودھ دیتی ہے، سب کو معلوم ہے۔ دودھ کی افادیت —  دودھ کو لوگ نُور بھی کہہ لیتے ہیں۔ گائے کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے، لیکن اتنا کچھ معلوم ہونے کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ خون اور گوبر کے درمیان سے پاکیزہ دُودھ کی نہر کیسے جاری ہوتی ہے۔ پاکیزگی ہی پاکیزگی — نُور ہی نُور — صحت ہی صحت — یہ سب کیسے ہے؟

اور تو اور — ایک معمولی سی مکڑی کو لیں، جو مٹی نگلتی ہے اور مٹی اُگلتی ہے، لیکن اِس اُگلنے والی مٹی سے ریشم کی ایک تار کا نکلنا اور پھر اِس تار کے ذریعے ایک ایسا خوبصورت جالا بُننا، جو جیومیٹری کے اصولوں کے عین مطابق ہوتا ہے —خوبصورت اور دیدہ زیب — یہ اُس کی فطرت ہے، لیکن اتنی خوبصورت کہ بیان سے باہر — اور اسی مکڑی کے جالے کے حوالے سے تاریخِ اسلام کا ایک عظیم واقعہ کہ مکڑی کے جالے نے ایک عظیم ترین زندگی کے محفوظ رہنے کا جواز بنایا اور اِسی کمزور جالے سے ایک قوی دلیل برآمد ہوئی — یہ سب کیسے ہے؟

ہم نے دیکھا کہ ایک مکّھی پھولوں سے رس اِکٹھا کرتی ہے اور پھر ایک نامعلوم عمل کے ذریعے اس سے شہد بناتی ہے۔ ایک قیمتی اور عظیم خوراک  جس میں لوگوں کے لیے شفا لکھ دی گئی ہے۔ یہ سب کیسے ہے؟  مکّھی کو، ایک ”اَن پڑھ“  مکّھی کو، اتنی بڑی تعلیم کہاں سے ملی کہ بڑے بڑے معلّم     اِس کو سمجھنے سے قاصر ہیں — اِسے کس نے سکھایا؟

Pages: 1 2 3 4