زندگی جہاں چاہے جب چاہے، شروع ہو سکتی ہے اور جہاں چاہے جب چاہے، ختم ہو سکتی ہے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ زندگی سے پہلے بھی زندگی تھی اور زندگی کے بعد بھی زندگی رہے گی۔ ہم اپنی پیدائش سے اپنی موت تک تقریباً ساٹھ سال کے عرصے میں منزلوں کا ذکر کرتے ہیں، منزلوں کا تعین کرتے ہیں اور منزلوں کی تلاش کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہی تلاش اور یہی حاصل ہی کُل کائنات ہے، حالانکہ ہمارے دنیا میں آنے سے پہلے بے شمار لوگ اپنی منزلوں کو پا بھی چکے۔ اُن لوگوں نے اپنی اپنی محنتوں، کاوشوں اور تلاش کے جھنڈے گاڑ دیے اور جو مقامات وہ لوگ حاصل کر گئے، اب کسی قیمت پر بھی وہ مقامات ہم حاصل نہیں کر پاتے۔ پھر بھی ہم منزلوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ ہمارے بعد بھی یہی مقصد ہوگا ، یہی کارواں ہوں گےاور یہی منزلیں ہوں گی۔ پھر بھی ہم اسی خیال میں گم ماضی اور مستقبل سے بے نیاز،بلکہ حال سے بھی بے خبر، اپنے مقصد کو اپنی منزل کہتے ہوئے مسلسل بڑھتے رہتے ہیں اور کبھی مقصد پا لیا تو صاحب ِ منزل کہلائے، اور اگر مقصد نہ پا سکے تو بھی صاحب ِ نصیب ہی کہلائے۔
منزلوں کے راستوں میں دَم توڑ جانے والے بھی صاحبانِ منزل ہی ہوتے ہیں۔ مقصد سے حاصل تک سارا سفر تمام کیفیات، تمام آسائشوں اور تکلیفوں سمیت منزل ہی کہلاتا ہے، یعنی نیت بھی منزل، عزمِ سفر بھی منزل،سفر بھی منزل اور اگر کوئی ہم سفر مل جائے تو وہ بھی منزل — اور اگر کوئی رہنمائے سفر مل جائے تو وہ بھی منزل — اور اگر مقصد کا قرب مل جائے تو وہ بھی منزل — اور اگر مقصد حاصل ہو جائے تو وہ بھی منزل — اور کبھی کبھی انسان مقاصد سے آگے نکل جائے تو بھی منزل— یعنی ورائے منزل بھی منزل ہی ہے — جیسے مشرق سے پرے بھی مشرق، مغرب کے پار بھی مغرب ہی ہے۔ منزلوں کے راستوں پر ایک ایک نقشِ قدم نشانِ منزل ہے اور نشانِ منزل بھی منزل ہے۔
منزل حاصل کرنے کا کوئی خاص فارمولا نہیں ہے۔ یہ منزل کا اپنا کمال ہے کہ وہ اپنے مسافروں کو اپنے حضور طلب کرتی رہتی ہے۔ خود ہی اُن میں ذوق پیدا کرتی ہے،خود ہی سفر کا انتظام کرتی ہے اور خود ہی ہم سفری کے فرائض ادا کرتی ہے — اور کسی وقت کسی نکتے پر خود ہی اپنے مسافروں کو خوش آمدید کہتی ہے،مسکراتی ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔