کبھی کبھی وہ اپنے مسافروں کو صاحب ِاَسرار بناتا ہے اور کبھی کبھی اُن کے ساتھ رہتے ہوئے بھی انہیں اپنی خبر تک نہیں ہونے دیتا۔ وہ لوگ منزل پر ہوتے ہیں اور منزلوں کی تلاش میں ہوتے ہیں — جس طرح سمندر میں رہنے والی مچھلی پانی کی تلاش میں ہو — وہ پانی کو دیکھنا چاہتی ہے، دُور سے۔ اب پریشانی تو یہ ہے کہ جب تک وہ پانی میں ہے، پانی کو دیکھ نہیں سکتی اور جب پانی کو دیکھنے کے لیے پانی سے جدا کر دی جائے تو وہ زندہ نہیں رہتی۔ یہی عالَم اُن متلاشیوں کا ہے جو منزلوں پر ہیں اور منزلوں کی تلاش میں ہیں۔ منزلیں اُن کی ہم سفر ہیں اور وہ پھر بھی سفر میں ہیں۔ دراصل سفراِلی اللہ ہی سفر مع اللہ ہے۔ منزل کسی خاص نقطے یا مقام کا نام نہیں ہے، یہ تو ایک نکتہ ہے جو وا ہو جائے تو بات بن جاتی ہے۔
وہ لوگ جنہیں ہم محرومِ منزل سمجھتے ہیں، دراصل وہ بھی محروم نہیں ہیں۔ یہ ہمارا اپنا ادراک ہے۔ کبھی ہم سمجھ سکتے ہیں،کبھی ہم نہیں سمجھ سکتے۔ بنانے والے نے یہ کھیل بنایا ہے کہ سب کچھ موجود ہے، موجود رہے گا اور موجود کی گواہی دینے والا ہی غیر موجود ہو جائے گا۔
کیا تلاش، کیا سفر اور کیا منزل!!
ہماری منزل، دینے والے کی منشا کا نام ہے۔ وہ جتنا کچھ دکھائے گا، وہی ہمارا حاصل ہے۔ اُس کے علاوہ تو شاید ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہاں کیا کچھ رکھا ہے۔ کتنی منزلیں،کتنے انعامات، کتنی سرفرازیاں انسان کے لیے موجود ہیں لیکن مجبوری ہے کہ انسان کے پاس لامحدود وقت نہیں ہے۔ خزانے لامحدود ہیں۔ منزلیں لامحدود ہیں۔ محدود زندگی میں ایک فانی انسان کیا منزل کاتعین کرے؟ کس سفر پر گامزن ہو؟ کہاں سے چلے اور کہاں پہنچے؟
بس یہ دن ہیں، جو ہمارا سرمایہ ہے۔ یہی زندگی ہے، جو ہم پر اُس کا احسان ہے۔ اِس احسان کو محسن کے نام پر ہی گزار دیا جائے، تو منزل حاصل ہو گئی۔ ورنہ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اُس کا فضل شاملِ حال ہو تو سونے والوں کو سرفراز کر دے، انہیں سب کچھ عطا کر دے اور اگر چاہے تو جاگنے والوں کو محرومِ دو عالَم کر دے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے منزلیں پالیں۔ نہیں! یہ سارا کام کرنے والے کا اپنا ہی کام ہے — مسافر اُس کے، مقاصد اُس کے، مسافرت اُس کی، منزلیں اُس کی، سرفرازیاں اُس کی اور سب احسان اُسی کے— ! ہمارے ذمہ ایک ہی کام ہے کہ دینے والے کا شکر ادا کرتے جاؤ، کیا منزل اور کیا نہ منزل۔ اُس کا شکر، اُس کے آگے سرنگوں رہنا۔ وہ عطا فرما دے، اُس کا شکر۔ وہ زندگی واپس طلب فرما دے، تو کیا انکار۔ یہی منزل ہے کہ منزلِ تسلیم، منزلِ رضا، منزلِ تشکّر حاصل ہو — جو ملا، اُس کا شکریہ— جو نہ ملا ،وہ ہمارا تھا ہی نہیں۔
ویسے بھی اپنے مقاصد بنانا،اپنے منصوبے بنانا، اپنی منزل کا تعین کرنا، اُس کی تلاش کرنا اپنی جگہ پر درست ہو گا لیکن پہلے یہ تو سوچ لینا چاہیے کہ ہم خود کسی اور کا پروگرام ہیں، کسی اور کا مقصد ہیں۔ کیوں نہ اُسے دریافت کیا جائے، یعنی مقصد کی تلاش کا مقصد ہی ہماری تلاش ہے۔ ہم وہی جاننا چاہتے ہیں، جو وہ چاہے — وہ ہے اور ضرور ہے — بس کہاں ہے؟ جس نے یہ راز دریافت کر لیا، اُس نے یہی کہا : ”اُس کی معرفت یہی ہے کہ اُس کی معرفت نہیں ہو سکتی“۔ اِس کا حاصل یہی ہے کہ اُس کو حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اُس کو دیکھنا ناممکن ہے، سوائے اِس کے کہ اُس کو دیکھنے والے کو دیکھا جائے۔ یہی پہچان ہے— یہی منزل ہے —اور اِسی جانب سفر ہی ہمارا مقصود اور ہماری مراد ہے۔ توفیق وہ عطا فرمائے، عازمِ سفر ہم ہیں۔ اگر یہ منزل نہ ملے تو ہر سفر باطل، ہر منزل بُولہبی ہے۔ یہی وہ منزل ہے جو ہم سے پہلے بھی موجود تھی اور ہمارے بعد بھی موجود رہے گی۔