منزل کسی جغرافیائی مقام کا نام نہیں ہے،کسی فاصلے کی لمبائی کا نام نہیں ہے، کسی قابلِ دید منظر کا نام نہیں ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے، جسے روشن نکتہ بھی کہا جاتا رہا ہے، جو انسان کے اپنے اندر موجود ہوتا ہے اور اس کا حصول، اس کا قرب، اس کا عرفان ہی حصولِ منزل کہلاتا ہے۔ کسی دُور کے نظارے کو حاصل نہیں کرنا، بلکہ اپنا اندازِ نظر ہی حاصل کرنا ہے —  اور اگر قسمت ساتھ دے اور وہ اندازِ نظر مل جائے تو پھر ہر ذرّے میں کئی آفتاب موجود نظر آئیں گے۔  ہر قطرہ قلزموں کو جنم دینے والا ہوگا، اور انسان خود کو اپنی نگاہ میں کسی عظیم ماضی کا حرف ِ آخر سمجھے گا اور اپنے آپ ہی کو آنے والے زمانوں کا آدم گردانے گا۔

فرد، فرد ہی ہے لیکن فرد ہی سے ملّتوں کا ظہور ہے —  دیکھنے کا انداز ہے۔ میں بہت سی وجوہ کا نتیجہ ہوں اور میں ہی بہت سے نتائج کی وجہ ہوں۔ میرا ہونا، بہت کچھ ہونے کے برابر ہے اور میرا ہونا بھی کیا ہونا! میں نہ ہوتا تو شاید کچھ بھی نہ ہوتا، اور اب میں ہوں تو بھی کچھ نہیں ہوں۔ یہی شعور منزلوں کی طرف گامزن کرتا ہے۔ میں ایک عظیم فنکار کا شاہکار ہوں اور میں اپنے فنکار کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔ وہی میرا مقصد ہے،وہی میری منزل — اور اس کی پہچان کا صرف ایک راستہ بتایا گیا کہ خود کو پہچانو۔ اپنی ذات کی منزل طے کرو، اُس کی ذات کی رسائی ہو جائے گی —  اور وہ ذات لامحدود اور لافانی — ہر جگہ موجود،ہر مقام پر حاضر، ہر شے پر وارد، ہر ہونے کا باعث،  ہر نہ ہونے کی وجہ، بنانے والی ذات، زندہ کرنے والی ذات، مارنے والی ذات  — ذات ِ مطلق کو تلاش کرنے کا اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے!!

یہی وجہ ہے کہ کسی نے اسے آنکھ کے پردے کے اندر دیکھا، کسی نے اسے پردے سے باہر دیکھا، کسی نے صحراؤں کے اندر اپنی منزل پائی،کسی نے گلی کوچوں میں رسوائیاں حاصل کرکے اسے تلاش کیا۔ کوئی اس کی تلاش میں مارا گیا، کچھ لوگوں کو ”اُس“ نے خود مار دیا۔ وہ ذات اپنے چاہنے والوں کو الگ الگ مقامات پر نوازتی رہی۔ وہ دار پر بھی ملا اور سنگِ درِ یار پر بھی۔ ہر ایک نے اپنے آپ کو صاحب ِ منزل ہی سمجھا۔ کچھ لوگ خاموش رہ کر مقامات پا گئے، کچھ لوگ گویائی کے چراغ جَلا کر روشن چراغ ہو گئے۔ کچھ محبوب بنا دیے گئے،کچھ محبّ بنا دیے گئے — اور دونوں ہی صاحبانِ منزل ہوئے۔ یہی  تو   کمال ہے عطا فرمانے والے کا،  کہ دل بھی اُس نے بنایا، دلبر بھی اُس نے بنایا، دِلبری بھی اُس نے پیدا فرمائی۔ جلوے بھی اُس نے عطا کیے۔ سوزِ دلِ پروانہ بھی اُس نے عطا کیا۔ درد کے نغمات اُس نے عطا فرمائے اور پھر اُس نے خود ہی نغمات سنے —اور اُن لوگوں کو منزلوں کے تحفے تقسیم کیے۔ اُس ذات کی طرف سے ملنے والی ہر شے اعجازِ منزل ہے۔

Pages: 1 2 3 4