عجب بات ہے کہ محبوب بیٹا جدا ہوا تو باپ کی بینائی چھن گئی اور مُدّت بعد بیٹے کی قمیض کی خوشبو سے بینائی لوٹ آئی۔ کہیں محبوب ،بینائی ہی نہ ہو! اپنی چاہت کا چہرہ نہ رہے تو بینائی کیا بینائی ہے۔ شاید دیکھنے کی تمنّاہی بینائی ہے۔ شاید محبوب کا چہرہ ہی بینائی کا سبب ہے اور یہی چہرہ بینائی کا انجام۔
محبوب محبّ کی زندگی میں عجب رنگ دِکھاتا ہے۔ محبّت اِنسان کو ماسِوائے محبوب سے اندھا کر دیتی ہے۔ وہ کسی اور شے کو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔ اُس کے دِل و نگاہ میں صرف ایک ہی جلوہ رہتا ہے،محبوب کا جلوہ!
محبوب زندگی کے صحرا میں نخلستانوں کی نوید ہے۔ محبوب محبّ کو زِندگی کے میلے میں اکیلا کر دیتا ہے۔ محبوب ہی باعثِ سفر ہے، وہی ہم سفر ہے، وہی رہنمائے سفر ہے اور پھر وہی محبوب ہی تو حاصلِ سفر ہے۔
محبوب کبھی جلوہ بن کے رُوبرو ہوتا ہے اورکبھی یاد بن کر چار سُو ہوتا ہے۔ محبوب جدا ہو کر بھی جدا نہیں ہوتا۔ وہ مر کے بھی نہیں مرتا۔ وہ محبّ کی آنکھ میں رہتا ہے۔ آنکھ سے اوجھل ہو تو دِل میں آ بستا ہے۔ محبوب ختم نہیں ہوتا،غائب نہیں ہوتا۔ وہ کبھی عدم نہیں ہوتا۔
دنیا کی رونقیں محبوب کے دَم سے ہیں۔ اِنسان اپنی زندگی کو محبوب کی خوشنودی کے لیے وقف کرتا ہے۔ اِنسان تو اِنسان، کائنات کی سب مخلوق اپنے محبوب کے لیے سر گرداں ہے۔ مور کا رقص،رمِ آہو،نغمۂ عنادل، چکور کی فریاد،لہروں کا تلاطم محبوب کی کرشمہ کاریاں ہیں۔ محبوب محبّ کو شعور ِزیست عطا کر کے شعور ِذات عطا کرتا ہے۔ سجدے سے انکار کرنے والا،حُسنِ آدم سے بے خبر اِبلیس محبّت سے محروم تھا۔ وہ رحمت سے مایوس ہوا۔ مردود قرار دے دیا گیا۔ اِبلیس کا معبود تو تھا،محبوب کوئی نہ تھا۔ لعین ہونے کے لیے اِتنا ہی کافی ہے۔ اِنسان کی محبّت کے بغیر خدا کا سجدہ اَنا کا سجدہ ہے۔ خدا اِنسان سے محبّت کرتا ہے،اور اِبلیس اور اُس کے چیلے اِنسان سے محبّت نہیں کرتے۔ کیسے کر سکتے ہیں!