اِنسان سے محبّت نہ ہو  تو وطن کی محبّت بھی واہمہ ہے۔ جس دیس میں ہمارا کوئی محبوب نہ ہو، اُس دیس سے محبّت ہو ہی نہیں سکتی۔ آج کے اِنسان کی وطن پرستی اِس لیے مشکوک ہے کہ وہ اِنسانوں کی محبّت سے عاری ہے۔ زمین، مکان اور پیسے سے محبّت کرنے والا اِنسان محبّت کی اصل رُوح سے محروم ہے۔ وطن اِس لیے پیارا ہوتا ہے کہ ہمارے پیارے اِس میں رہتے ہیں،ورنہ وطن کیا اور وطن کی محبّت کیا! اگر محبوب وطن سے باہر ہو تو  محبّت وطن سے باہر ہو جائے گی۔

                محبوبوں میں سب سے زیادہ خطرناک محبوب شہرت ہے۔ شہرت سے محبّت کرنے والا دراصل اپنی اَنا  کاپرستار ہے۔ اِنسانوں میں خدمت کے بغیر سربُلندی کی تمنّا ظلم ہے۔ جھوٹے معاشرے میں شہرت حاصل کرنے والا سچّے معاشرے میں بدنام گنا جائے گا۔

Pages: 1 2 3 4