آج کے اِنسان کا محبوب،سرمایہ ہے۔ وہ اپنے مال کو اپنا محبوب مانتا ہے۔ اُسے چاہتا ہے۔ اُس کی پوجا کرتا ہے۔ اُس کے وِصال سے خوش ہوتا ہے اور اُس کے فراق سے ڈرتا ہے۔ آج کے اِنسان کو موت سے زیادہ غریبی کا ڈر ہے۔ مال کی محبّت نے اندھا کر دیا ہے، اِنسان کو غافل کر دیا ہے۔ اُس کی آنکھ تب کھلتی ہے،جب بند ہونے لگے۔ بڑی محرومیاں ہیں،آج کے محبّ کے لیے،آج کے محبوب کے حوالے سے!
مال کا عجب حال ہے۔ پڑا رہے تو بے کار ہے۔ اِس کی افادیّت اِس کے خرچ میں ہے،اِس کے اِستعمال میں ہے،اِس کی جدائی میں ہے۔ یہ محبوب ہمیشہ سے ہر ایک کے ساتھ بے وفا ہے، بے وفا رہا ہے اور بے وفا رہے گا۔ بے جان مال کی محبّت جان دار اِنسان کو اِخلاقی قدروں سے محروم کر دیتی ہے۔ مال کی محبّت حریص بناتی ہے اور حریص کی جیب بھر جائے تو بھی دِل خالی رہتا ہے۔
کچھ لوگ خدا سے محبّت کرتے ہیں،صرف خدا سے،اور بس — خدا کے بندوں سے نہیں۔ خدا کے بندوں سے محبّت نہ کرنے والوں کو خدا کیسے پسند کر سکتا ہے! خدا کے حبیبؐ تو وہ ہیں جو مخلوق کے محبّ اور خالق کے محبوب ہیں۔ اللہ کی محبّت کا راز اِنسان کی محبّت میں ہے۔ اللہ معبود ہے،انسان محبوب۔ اللہ کی راہ اِنسانوں کی راہ ہے—ا ِنعام یافتہ اِنسانوں کی!
آج کے محبوب ،مال نے آج کے اِنسان کو بڑی محرومیاں عطا کی ہیں۔ آدمی،آدمی سے دُور ہو رہا ہے۔ جغرافیائی فاصلے ختم ہو رہے ہیں لیکن دِلوں اور نگاہوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ خاندان تو ختم ہو ہی چکا ہے۔ میاں بیوی، اولاد اور والدین کے درمیان پیسے کی دِیوار حائل ہو چکی ہے۔ بیوی خاوند سے جدائی برداشت کر سکتی ہے ،پیسے سے جدائی برداشت نہیں کر سکتی۔ مال کے مقدّر میں پردیس لکھا جا چکا ہے۔ خاوند پردیس میں ہے،بیوی خطوط اور مال پر گزارہ کر رہی ہے۔ گھر سجائے جا رہے ہیں اور جس کی خاطر مقصود تھی،وہ نظر نہیں آتا، کمائیاں کرنے گیا ہوا ہے۔
کچھ لوگوں کا محبوب،نظریہ ہے۔ نظریات کی محبّت نے مُلکوں میں فساد مچا رکھا ہے۔ دائیں اور بائیں کی تقسیم قوم کو تقسیم کر چکی ہے۔ بھائی بھائی کے رُوبرو ہے،بلکہ دُوبدو ہے۔ گلستانِ وطن میں بڑے گُل کِھلنے والے ہیں۔ نظریہ پرست اِنسان،مردم بیزار ہے۔ نظریات کی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ صورتِ حال خوفناک ہے۔ اِنسان تقسیم ہو چکا ہے۔ ایران، عراق،نظریات ہیں۔ ہر دو فریق،مصروف ِجہاد— سچّے خدا کے نام پر دونوں گروہ جنگ کر رہے ہیں۔ کون سچّا ہے کون جھوٹا— دونوں سچّے تو نہیں ہو سکتے۔ محبوب پرستی جنگ پرستی تو نہیں ہو سکتی۔ اپنے ہاں حکومت اور حزبِ مخالف،دو نظریے برسرِپیکار ہیں۔ اِنسان کی محبّت سے محروم لوگ نظریات کی گرفت میں ہیں۔