اِنسان سے محبّت وہی کر سکتا ہے جس پر خدا مہربان ہو۔ خدا جب کسی پر بہت مہربان ہو تو اُسے اپنے بہت پیارے محبوبﷺکی محبّت عطا کر دیتا ہے۔ اللہ کے اِحسانات میں سب سے بڑا اِحسان محبّت ہے۔ محبّت کم ظرف اور کم نظر کا کام نہیں۔ یہ عالی ظرف اور بلند نگاہ اِنسانوں کا کھیل ہے۔ یہ بلند نصیب اِنسانوں کی بات ہے۔ اِس زندگی میں جسے محبوب مل گیا،اُسے سب کچھ ہی تو مل  گیا۔

                محبوب کے ملنے کی دیر ہے کہ زندگی نثر سے نکل کر نظم میں داخل ہو جاتی ہے۔ محبوب خود شعرِ نازک ہوتا ہے۔ اُس کا قرب محبّ کو شعر آشنا کر دیتا ہے۔ جسے محبوب نہ ملا ہو، جسے محبّت نے قبول نہ کیا ہو،اُسے غزل بے معنی نظر آتی ہے۔ اُسے نظم سے بَیر سا ہو جاتا ہے۔ محبوب میسّر نہ ہوتو    رعنائیِ خیال کا ملنا محال ہے۔

                محبوب اُس ذات کو کہتے ہیں جس کے تقرّب کی تمنّا کبھی ختم نہ ہو۔ اپنی ذات سے فنا ہو کر جس کی ذات میں بقا ہونا منظور ہو،اُسے محبوب کہا جاتا ہے۔ محبوب محبّ کے حُسنِ انتخاب اور حُسنِ خیال ہی کا نام ہے۔

                ہر زندہ اِنسان کے لیے کوئی نہ کوئی محبوب ضرور ہو گا۔ جن کا کوئی محبوب نہیں،وہ اپنے آپ سے محبّت کرتے ہیں،اپنی اَداؤں پر مرتے ہیں۔ اپنے خون کی سرخی پر فدا ہونے کی خواہش،اُن کے خون کے سفید ہونے کی دلیل ہے۔ ایسے لوگ آئینہ خانوں میں اکثر دیکھے جاتے ہیں،نہ وہ کسی کو پسند کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور اُن کو پسند کرتا ہے۔ ظاہر ہے،اُن کی زندگی ایک جزیرے کی طرح ہے۔ وہ خود ہی آوازہیں اور خود ہی گوش برآواز۔ ایسے لوگ سخت دِل اور تُند خُو ہوتے ہیں۔ اُن کے نصیب میں تنہائیاں ہیں۔ ایسے لوگ کبھی کبھی خود ی سے آشنا بھی ہو جاتے ہیں۔ اُن کو اپنے ہی سِرِّنہاں تک رسائی ہو جاتی ہے۔ اُن کا محبوب— اُن کی ذات، اُن کے لیے کرشمہ کاریاں کر جاتی ہے۔

                آج کے دَور کا اِنسان محبوب سے آزاد سا ہو گیا ہے۔ وہ اِنسانوں سے مایوس ہو چکا ہے۔    وہ اپنے آپ سے مایوس ہو چکا ہے۔ اُسے کسی پر کسی حالت میں اعتماد نہیں۔ وہ اپنے ماضی پر تو  نادم ہے ہی سہی،اپنے مستقبل پر بھی نادم ہے۔

Pages: 1 2 3 4