کرگس وشاہین اپنی بلند پروازی کے کسی دائرے میں ایک ساتھ ہو گئے۔ وہ پاس پاس،ساتھ ساتھ،فضا میں تیرتے چلے جا رہے تھے۔ اُن میں گفتگو کا ہونا فطری اَمر تھا۔

شاہین نے کہا ”بھئی! کیسی ہے یہ فضائے نیلگوں، رِدائے صبح و شام، یہ وُسعت ِنگاہ، یہ بلند پروازی اور اِس کے ساتھ یہ بلند فکری و  بلند نظری !! “

                کر گس،جو اپنے خیال میں ڈوبا ہوا نظریۂ ضرورت کے متعلق سوچ رہا تھا،بولا: ”ہاں بھئی! بلندی ہی بلند ی ہے،لیکن بلند ی اور صرف بلند ی ہی تو زِندگی نہیں۔ زِندگی زِندہ رہنے کا عمل بھی تو ہے۔ اِس میں اور بھی ضروریات ہیں۔ وسعت ِنگاہ اپنی جگہ پر بجا،لیکن ضرورتِ وجود سے کیا اِنکار۔ یہ بلند پروازی مجھے میری ضرورت سے محروم کر رہی ہے۔ دیکھو بھئی! خالی بلند ی اور خالی پیٹ ہمیں کیا دے سکتے ہیں؟“

                شاہین نے کہا: ”دیکھو! وہ دُور اُفق پر جھلمل جھلمل کرنے والی شے کیا ہے۔ کتنا خوبصورت ہے یہ منظر،کتنی لطیف ہے یہ فضا۔ آؤ بھئی! ستاروں کی دُنیا میں چکر لگائیں۔
آؤ دیکھیں! سورج کہاں سے نکلتا ہے، کہاں ڈوبتا ہے۔ آؤ ! راز ہائے سَر بستہ دریافت کریں۔
آؤ ! معلوم کریں کہ یہ سب کیا ہے، یہ آباد یاں کیا ہیں، کیوں ہیں، کون ہے جو ہر شے کو حرکت عطا کرتا ہے، کس نے سب کو اپنے اپنے محور و مدار میں جکڑ رکھا ہے؟ آؤ  تو ذرا دیکھیں! اُس کا اپنا مدار کیا ہے؟ طاقت صرف طاقت ہے تو اُس کی اپنی ضرورت کیا ہے؟ اگر اُس کی بھی اپنی کوئی خواہش ہے تو وہ طاقت کیا ہے اور اگر اُس کی اپنی کوئی ضرورت نہیں تو یہ سب ظہور غیر ضروری ہے۔  آؤ! اِس راز سے پردہ اٹھائیں“۔

                کر گس نے شاہین کی بات سنی تو بڑے غور سے،لیکن اُس بات کو سمجھنے اور اُس پر غور کرنے کے بجائے اُسے اپنی مردار ہنسی کے حوالے کر دیا اور کہا: ’’اِتنی دُور کی باتیں نہ سوچا کرو۔ مجھے بھوک لگی ہے۔ میں کب سے بھوکا پیاسا تیرے ساتھ چکر لگا رہا ہوں اور بھوک سے مجھے خود چکر آرہے ہیں۔ زِندگی کا کوئی راز نہیں۔ یہ صرف زِندگی ہے، اِسے گزارنا ہے۔ بہر صورت زِندگی صرف آگ ہے اور یہ آگ زِندگی کے ہر حصّے میں ہے،دِل میں، دماغ میں، نفس میں اور سب سے بڑھ کر پیٹ میں۔ پیٹ کی آگ کو بجھانا آسمانوں کی پرواز سے بہتر ہے۔ یہ بلند پروازیاں مہمل ہیں،اگر پیٹ خالی ہو۔ تم ستاروں اور سورجوں کا کھوج لگاؤ۔ وہ تمہاری منزل ہو گی، لیکن میری منزل میری نظر کے سامنے ہے۔ وہ دیکھو ایک مرا ہوا گھوڑا پڑا ہے۔ میری برادری کے لوگ جمع ہو رہے ہیں،اِس لیے میں بھی نظریۂ ضرورت کے ماتحت اپنی منزل کی طرف چلا ہوں۔ تجھے اور تیری پرواز کو خداحافظ۔“

Pages: 1 2 3 4