کرگس اور شاہین،شاہین اور کرگس معاشرے میں باہم موجود رہتے ہیں۔ دونوں کی پرواز اِسی ایک فضا میں ہی رہتی ہے۔ مقصد کا جہان الگ الگ ہے۔ ایک آسمانوں پر جھپٹتا ہے،دُوسرا مُردار پرلپکتا ہے۔ اِن کے مزاج الگ، اِن کی داستان الگ۔ شاہین کی بات کرگسوں کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ شاہین کا خواب ہو تو تعبیر کرگسوں کے بس میں نہیں۔ شاہین کا مُدعا شاہین ہی کو معلوم ہو سکتا ہے۔ پاس رہنے والے،دُور کے فاصلوں کے مسافر ہوتے ہیں۔ شاہینوں کے مساکن پر اگر کرگسوں کا بسیرا ہو جائے تو سمجھ لیجیے قیامت کی نشانی ہے۔ اگر بلند مرتبت بلند نگاہ نہ ہو تو وہ وقت اچھا نہیں ہوتا۔ شاہین کے خواب کی تعبیر اور تفسیر کے لیے کوئی شاہین ملے تو بات بن جائے،ورنہ یہ بات ہجومِ کرگساں کے بس میں نہیں۔
ع کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور