یہ کہتے ہُوئے کرگس نے ایک سیدھا غوطہ زمین کی طرف لگایا اور آناً فاناً اپنی منزلِ مردار تک پہنچ گیا،اور شاہین بدستور راز ہائے سربستہ کی تلاش میں، بلند سے بلند تر کی جستجو میں،وحدت ویکتائیِ خیال کے تصوّر میں،زِندگی اور ماورائے زِندگی کو جاننے کی آرزو میں سرگرداں ہے۔ وہ عالمِ تحیرّمیں گم ہے۔اُس کے سامنے صرف فاصلے اور وسعتیں ہیں لیکن وہ پرواز میں ہے۔ اُس کی منزل — وہ منزلوں سے آزاد ہے۔ منزل،قید ہے اور پرواز، آزادی ہے۔
کرگس اور شاہین اِکٹھے پرواز کریں، تب بھی الگ الگ راستوں کے مسافر ہیں۔ اُن کو ساتھ ساتھ بھی دیکھا جائے،تو بھی اُنہیں ساتھی نہ سمجھا جائے۔ یہ ہم پرواز تو ہو سکتے ہیں، لیکن ہم مَشرب نہیں،ہمراز نہیں۔ ایک کا مقصد مکاں،دُوسرے کا مقصد لامکاں۔ ایک محدود،دُوسرا لامحدود۔ ایک کا رِزق مردار،دُوسرا دِل کا شہنشاہ۔ ایک موت سے وابستہ ہے،دُوسرا آزادی ہی آزادی کے ساتھ۔
زندگی کے ہر شعبے میں کرگس اور شاہین ساتھ ساتھ دیکھے جاتے ہیں— ہر شعبے میں، ہر طبقے میں، ہر گروہ میں، ہر درجے اور زاویے میں۔
فوج میں بھی شاہین ہیں، کرگس ہیں۔ شہباز وہ جرنیل ہے جس کا مدعا ملک کے علاوہ کچھ نہ ہو اور گِدھ جرنیل وہ ہے جس کا مُدعا اپنا پیٹ بھرنا— اپنا دوزخ۔ کبھی کبھی اپنا حاصل ملک کی محرومی بن سکتا ہے۔ ایسے جرنیل بھی گزرے ہیں جن کا سب سے اچھا کام یہ تھا کہ وہ گزر گئے۔ اُنہیں زِندگی میں صرف ایک ہی چیز زیب دیتی تھی کہ بس زِندگی کو چھوڑ دینا۔
مسلمانوں کے قافلے میں شاہینوں کے بسیروں پر کرگسوں کا قبضہ سا ہو چکا ہے۔ مشائخ کرام ہی کو لیجیے۔ بس نازک بات کو نہ ہی بیان کیا جائے، لیکن یہ بات اِتنی نازک بھی نہیں کہ اقباؔل بہت پہلے اِسے کئی بار کہہ چکا ہے کہ خانقاہ میں صُوفی خالی ہے۔ خرقۂ سالُوس کے اندر مہاجن ہے۔ یہ طریقِ خانقاہی اِصلاح طلب ہے — اور کتنے ایسے اقوال!