مشائخ،پیروکار ہیں اُن صادق مشائخ کے جن کے نام سے کام نکلتے رہے ہیں لیکن آج اُن سچّے بزرگوں کے آستانوں پر کہیں کہیں جھوٹے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی اِتنا راز بھی نہیں۔ ہر شیخ اپنے علاوہ سب کو غیر مصدقہ سمجھتا ہے۔ اِسی طرح تمام مشائخ دوسرے تمام مشائخ کی رُو سے غیر مصدقہ ہیں۔ اگر سارے سچّے ہوں،سارے شاہین ہوں تو ملک میں جوکچھ ہو رہا ہے،نہ ہو۔ شہبازِ طریقت وہ شیخ ہے جو کم اَزکم قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر نشیمن نہ بنائے۔ حق گو اور قصیدہ گو میں جو فرق ہے،اُسے قائم رہنے دیا جائے۔
علمائے کرام کا تذکرہ کیا کیجیے۔ اُن کا کام بس اُتنا ہی ہے ،جتنا یہ کر رہے ہیں۔ بس اُن کا نام رکھنا باقی ہے— علمائے حق یا علمائے سُو!
علمائے حق ،کلمۂ حق کہنے کے لیے پیٹ کی ضروریات کو مُقدّم نہیں سمجھتے۔ وظیفہ خوار عالمِ دِین نہ عالم ہے، نہ دِین آشنا۔ وہ صرف ایجنٹ ہے اور ایجنٹ عالمِ حق نہیں ہو سکتا۔ بہرحال اِس طبقے میں شاہین بھی موجود ہیں اور کرگس بھی۔ وہ علماء جو واقعی علمائے حق ہیں، بلند نگاہ اور بلند پرواز ہیں۔ وہ ظاہر اور باطن کا فرق نہیں رکھتے۔ وہ مساجد کو اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی تعریف کے لیے وَقف سمجھتے ہیں۔ اِنسانوں اور حکمرانوں اور ہر دَور کے حکمرانوں کی ہر حال میں قصیدہ سرائی عالمِ ِحق کا کام نہیں ہے۔
اِسی طرح اساتذہ، ادیب، دانشور، سیاست دان اور بڑے تجّار اور کارخانہ دار سب میں کرگس اور شاہین ہیں۔ ہر سطح پر یہ کھیل ہو رہا ہے،بلکہ ہر شخص کے اندر بھی یہ کھیل ہو سکتا ہے۔
جب انسان پیٹ اور صرف پیٹ بن جائے تو وہ کرگس صفت ہو جاتا ہے۔ جب اُسے ذوقِ پرواز ملے،وہ ایسے رزق کو بھی نگاہ میں نہیں لاتا جس سے اُس کی پرواز میں کوتاہی آئے۔ شاہین صفت اِنسان مُردار نہیں کھا سکتا۔ وہ صرف پرواز ہےاور پرواز بھی اُس کے ساتھ، اُس کی طرف جس نے قوّتِ پرواز دی۔ جس کی کوئی منزل نہ ہو، اُس کی منزل اُس کے ہمراہ ہوتی ہے۔