رحمت کا تصوّر یا اِس کے وجود کا ثبوت اللہ تعالیٰ نے خود عطا فرمایا۔ اُس کا ارشاد ہے، اور یہ اِرشاد بڑے زور دار لہجے میں آیا ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہونا،یعنی خبردار میری رحمت سے مایوس نہ ہونا۔

 اگر انسان کے اعمال اپنے منطقی نتیجے پر منتج ہوں تو رحمت کا لفظ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انسان محنت کرے گا، حاصل کر لے گا۔ بدی کرے گا، سزا پا لے گا۔ نیکی ہو گی، انعام پائے گا۔ ہر وجہ کا ایک نتیجہ ہے اور ہر نتیجے کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ ہے۔ اگر وجوہ اور نتائج صرف وجوہ اور نتائج ہی ہوتے تو غالباً انسان کے دل سے اُمّید، آس اور رحمت کا تصور ختم ہو جاتا۔ رحمت ہوتی ہی انسان کو اُس کی بداعمالیوں کی سزا سے بچانے کے لیے، یعنی حال کی غلطی جو مستقبل میں اپنے لیے سزا مرتب کر چکی ہے یا لکھ چکی ہے، اِس سے بچانے والی شے رحمت کہلائے گی۔ پس یہ ارشاد کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہونا، صرف یہی مفہوم رکھتا ہے کہ اے انسان! اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہونا اور یہ کہ اے انسان! اگر کبھی غلطی سرزد ہو جائے تو یاد رکھنا کہ غلطی کی سزا ضرور ہے لیکن یہ بات نہ بھولنا کہ میری  رحمت میرے غضب سے زیادہ وسیع ہے۔ غلطی کی سزا دینے والا مَیں ہی ہوں لیکن یہ میرا ہی فضل ہے کہ میں غلطیاں معاف بھی کرتا ہوں، خطاؤں سے درگزر بھی کرتا ہوں، انسان کی کمزوری کو اپنی رحمت کی طاقتیں عطا فرماتا ہوں۔

آنے والے اندیشوں میں مبتلا رہنے والے انسان کے لیے ایک صدا بلند ہوتی ہے کہ خبردار! یہ نہ بھولنا کہ مَیں اور صرف مَیں اِس بات پر قادر ہوں کہ گناہ معاف کر دوں  اور یہی نہیں بلکہ انسان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دوں، اور یہ کہ اُس کے تمام گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دوں۔ مَیں انسان کو تاریکیوں سے نکالتا ہوں، اسے روشنی عطا کرتا ہوں، ظلمات سے نُور کا سفر میری رحمت کے سہارے ہو سکتا ہے، کافروں کو سزا سے پہلے انہیں ہدایت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمانے والا ہوں، بے ایمانوں کو ایمان کی دولت عطا کرتا ہوں۔

اللہ کریم کی رحمت کو اگر غور سے دیکھیں تو زندگی میں قدم قدم پر چھائی ہوئی ہے۔ ہمارا ایک ایک سانس اُس کا مرہونِ منّت ہے۔ رات کو سونے کے بعد صبح کی بیداری اُس کی رحمت کے سہارے ہوتی ہے۔ انسان نہیں جانتا کہ وہ کن کن مشکل مقامات سے گزار دیا جاتا ہے۔ یہ زندگی مشاہدات سے بھری ہوئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ رحمت کے قائل نہیں، وہ کس مشکل میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اُن کے پاس مال ہوتا ہے، سکون نہیں ہوتا۔ وہ اپنی آرزوئیں پوری کرکے بھی دولتِ سکون سے محروم  ہوتے ہیں۔ یہ اُس کا فضل ہے کہ وہ انسان کے دل کو سکون و قرار کی دولت سے مالا مال کر دے۔

Pages: 1 2 3 4