ہم دُعا کرتے ہیں کہ اللہ! ہمارے ماں باپ پر رحم فرما، ہماری اولادوں پر فضل کر، اور اگر ماں باپ یا اَولاد رخصت ہو چکے ہوں، تب بھی دُعا کے حوالے سے اُن پر رحمت ہو سکتی ہے۔ رحمت ہڈیوں پر کیا   ہو گی، خالی بے جان گوشت پوست پر کیا ہو گی، رحمت تو ہمارے ماں باپ پر ہو گی اور اگر ماں باپ زندہ نہیں تو پھر ماں باپ کا لفظ کس کے لیے ہے۔ ہم کسی واہمے کے لیے دُعا نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ یہ دُعا ہمیں حیّ و قیّوم نے بتائی ہے۔ اللہ واہموں کی بخشش کی دُعائیں نہیں بتاتا۔ رحمت کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری ہے،اور رحمت مانگنے والے کے لیے ہے اور نہ مانگنے والے کے لیے بھی ہے —اور کبھی کبھی تو نہ مانگنے والے زیادہ خوش قسمت نظر آتے ہیں کہ اُن کے لیے ہر صاحبِ راز نے دُعا کی۔

اللہ کو بھول جانے والے لوگ اللہ کو تو یاد ہیں۔ وہ جنہوں نے اللہ کو نظر انداز کر دیا، اللہ انہیں نظر انداز نہیں کرتا۔ وہ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا، اللہ اُنہیں نہیں چھوڑتا۔ اللہ نے پیغمبرؑ    بھیجے کہ اِن ناسمجھ لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی جائے۔ اِن لوگوں کا استحقاق نہیں، لیکن اِن پر رحمت کرنا،رحمتوں والے کی شان ہے۔ وہ اتنی بڑی رات کے اندر روشنی کا چراغ جلاتا ہے،وہ کفر کے اندھیروں میں ایمان کے نُور کا جلوہ دکھاتا ہے۔

رحمتِ حق اُس شخص کی تلاش میں رہتی ہے جس کی آنکھ پُرنم رہتی ہے۔ آنسوؤں کے قریب رہنے والے رحمتِ حق کے قریب ہیں۔ انسان کی زبوں حالی پر ترس کھانے والے، رحمتِ حق کے اندر ہیں۔ رحمت کرنے والے، دراصل رحمت حاصل کرنے والے ہیں۔ انسان کے قریب رہنے والے، خدا کے قریب ہیں اور خدا کے قریب رہنے والے، محبوبِ خداؐ کے قریب رہتے ہیں —  اور یہ قرب، قربِ رحمت ہے۔ رسولِ رحمتؐ کی ہر بات حصولِ رحمت کا ذریعہ ہے۔ آپؐ نے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا۔ غلاموں کو ایک دن میں ستّر مرتبہ معاف کرنے کا حکم فرمایا۔ آپؐ پوری کائنات کے لیے دعوتِ رحمت ہیں۔ اپنوں کو عبادت کے غرور سے بچاتے ہیں اور عبادت سے محروموں کو رحمت کا تصور دے کر عبادت کے قریب لاتے ہیں۔ فریاد کرنے والوں کو رحمت کے حصول کا حق عطا فرماتے ہیں۔ جس کو رحمت کا حق مل گیا، اُسے رسولِ رحمتؐ کے دامن میں پناہ مل گئی۔  جسے حضورؐ کے دامن میں پناہ مل گئی، اُس کا کام آسان ہو گیا—یعنی حضورؐ پر ہمیشہ دُرود و سلام بھیجتے رہنا—  اور یہی اصل نسخہ ہے، حصولِ رحمت کا!!

Pages: 1 2 3 4