یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ فقرائے کرام سے سرزد ہونے والی کرامتیں بھی حضورؐ ہی کی رحمتوں کے جلوے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ آپؐ کی نگاہ رحمت کی ضمانت ہے۔ آپؐ کی رحمت ، اللہ کی رحمت ہے کیونکہ آپؐ خود ہی اللہ کی رحمت ہیں۔ مولانا رومؒ کو مولوی بنانے والا عمل اُس کی رحمت کا عمل ہے۔ رحمت انسان کو عام سے خاص اور خاص سے خاص الخاص بناتی رہتی ہے۔ اقبالؒ کو محرمِ راز بنانے والی شے یہی رحمت ہے۔ اقبالؒ جانتا تھا کہ اُس کے شعر باقی شعراءسے زیادہ بلند نہیں، اُس کا فکر باقی فلسفیوں سے زیادہ بلیغ نہیں۔ ملّت کا دَرد حالؔی کے پاس بھی تھا اور شب بیداری اُسی اقبالؒ کے بقول عطار، رومیؒ، رازیؒ اور غزالیؒ کو بھی ملی، لیکن اِقبالؒ کو جو پذیرائی عطا ہوئی، قوم نے اپنے دل میں اسے جگہ دی، یہ صرف اور صرف حصولِ رحمتِ مصطفیؐ کے دَم سے ہے۔ اِقبالؒ کردار کا غازی نہ ہونے کے باوجود قلندرانہ مقامات پر فائز کیا گیا۔ اُس کی آواز قوم کے لیے ایک پُرسوز حُدی خواں کی آواز تھی۔ اُس کا نالۂ نیم شبی آج بھی قوم کے لیے بیداری کا پیغام رکھتا ہے۔ اُس نے قوم کو ایک ایسے تصوّر سے ہمکنار کیا،جسے پاکستان کا لقب ملا۔ یہی تصوّرِ اقبالؒ تھا۔
رحمت ایک مستقبل کا تصوّر دے کر انسان کو جاوداں کر دیتی ہے۔ خاک افلاک تک جا پہنچتی ہے۔ رحمت کے شکر میں جھکا ہوا سَر، سرفراز کر دیا جاتا ہے۔
رحمت ایک عام زندگی میں ایسا انقلاب برپا کرتی ہے کہ وہی عام انسان خاک کے ایک ذرّے سے ماہتاب و آفتاب بنا دیا جاتا ہے۔ آنے والے زمانوں کو رخ عطا کرنے والے لوگ رحمت سے نوازے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کی فکر رحمت کا کرشمہ ہے۔ اُن کی فصاحت اور بلاغت رحمت کا اعجاز ہے۔ رحمت رفعتیں عطا کرتی ہے، فانی کو جاودانی بناتی ہے، جُز کو کُل کے راستے دکھاتی ہے،کثرت کو وحدت میں سمیٹتی ہے، مایوسیوں میں اُمّیدوں کے چراغ جلاتی ہے، ہونی کو انہونی اور انہونی کو ہونی کر دیتی ہے، غریبی میں بادشاہی اور بادشاہی میں فقیری عطا کرنے والی شے رحمت ہے۔ وہ جو دیکھنے میں خاک نشیں نظر آتا ہے، حقیقت میں عرش نشیں ہے۔
دونوں جہان کے لیے رحمتوں کا پیغام لانے والی ذات انسان کو تکلیفوں میں مبتلا دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہے۔ آپؐ کو اپنا کوئی غم نہیں۔ آپؐ آدھی آدھی رات تک جاگتے ہیں، سجدے کرتے ہیں اور روتے ہیں۔ بس اُمّت کا حال دیکھ کر آپؐ کو آزردہ کرنے والی بات صرف یہی ہے کہ اُمّت نے آپؐ کا راستہ ترک کر دیا، لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ابھی اُمّیدوں کے چراغاں ہیں، ابھی اعتماد کی منزلیں طے ہو رہی ہیں۔ ابھی لوگوں میں یقین ہے، آپؐ کی رحمتوں کا، آپؐ کی نوازشوں کا۔ حق نہ رکھنے کے باوجود آپؐ کی عنایات کو اپنا حق سمجھنے والے اتنی ناحق بات بھی نہیں کر رہے۔ یہی تو حق ہے اور یہی اللہ کے حکم کا مفہوم ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہونا،یعنی عمل کی کوتاہی کی وجہ سے حق نہ رکھنے کے باوجود رسولِ رحمتؐ کی عنایت کو اپنا حق مانتے رہنا۔ یہی راستہ مایوسیوں سے بچنے کا راستہ ہے۔ اِسی یقین کو ایمان کہتے ہیں۔ وہ اللہ جس نے ہمیں اپنا دین عطا فرمایا، اپنی عنایات عطا فرمائیں، ہمیں آنکھیں عطا کیں اور آنکھوں کے لیے روشن روشن کائنات بنائی، اُسی اللہ نے ہمارے لیے دنیا کی راہیں آسان فرمائیں اور ہمارے لیے دریاؤں کو حکم دیا کہ ہمیں راستہ دے دیں۔ بلند پہاڑوں کے لیے حکم ہے کہ انسان کو راستہ دے دیں۔ ہر راز کو حکم ہے کہ انسان کے لیے آشکار ہو جائے۔ ہر مخفی کو ظہور کا حکم دینے والا اپنی رحمتوں کے اٹل ہونے کا اعلان فرماتا ہے۔ رحمت آکے رہے گی، گناہ معاف کر دیے جائیں گے، شرط اظہارِ ندامت ہے، شرط خلوصِ دل سے توبہ ہے— شرط حضورؐ کے دامن سے وابستہ ہونے کی تمنّا ہے— شرط اللہ کی رسی کو مل کر مضبوط پکڑنے کی ہے، یعنی شرط رحمت کی تمنّا ہے اور اِس کا
انعام حصولِ رحمت!
رحمت کے کرشمے دیکھنے والی آنکھ اکثر پُرنم رہتی ہے۔ رحمت والے لوگ اِس جہان میں رہ کر بھی اُس جہان کے خیال میں زندہ ہوتے ہیں۔ دُور کے زمانے بھی اُن کو حضورؐ کے قریب رکھنے میں رکاوٹ نہیں ڈالتے، کیونکہ اُس نگاہ میں صدیوں کے فاصلے بھی کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ وہ نگاہ صدیاں عبور کرکے اپنے درویشوں کی زندگی کو آج بھی روشن کرتی ہے۔ آپؐ آج بھی قریب کرتے ہیں اور قریب ہوتے ہیں۔ یہی رحمت کا کرشمہ ہے کہ اِس میں نہ ماضی دُور ہوتا ہے، نہ مستقبل بعید ہوتا ہے۔ اِس میں فاصلے سمٹ جاتے ہیں— فاصلے تاریخ کے ہوں یا جغرافیے کے، اِس میں کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔ آج رجوع کرنے والا پُرانے جلوے کو حاضر پاتا ہے۔ گزرے زمانے کے جلووں کو پکارنے والا مایوس نہیں کیا جاتا،کیونکہ جلوے گزرتے نہیں۔ سورج میں روشنی قائم ہے، چاند میں نُور باقی ہے،آسمانوں کی گردش برقرار ہے — یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کائنات کے لیے رحمت کا سبب ماضی بن جائے۔ یہ ناممکن ہے۔ کائنات حاضر، رحمت حاضر، کائنات موجود، رحمت موجود، بلکہ یہاں تک کہ کائنات نہ موجود ہو، رحمت تب بھی موجود رہتی ہے کیونکہ رحمت دراصل حیّ و قیّوم کی صفت ہے اور اِس صفت سے حضورؐ کو متّصف کیا گیا ہے۔ جب صفت نہیں مر سکتی تو موصوف نعوذ باللہ کیسے فانی ہو سکتے ہیں۔ رحمتیں مرنے کے بعد بھی حاصل ہوتی رہتی ہیں۔