اللہ کریم نے انسان کو رحمت کا تصوّر دیا۔ رحمت کے خیال سے ہی انسان کے تصوّر میں بہار پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی آرزو جس کے حاصل کرنے کی خواہش ہو اور اُس کا استحقاق نہ ہو، رحمت کے انتظار میں پل جاتی ہے۔ مسلمان جنّت کی تمنّا میں اپنی حیات کا سفر کر رہے ہیں۔ یہ یقین کہ ان کی آخرت بہتر ہو گی، صرف رحمت کے تصوّر سے حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے انتظار میں رہتے ہیں۔ مسلمان رحمت کے حق سے مایوس نہیں ہوتا۔ ہم اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے، بھروسہ اُس کے فضل پر ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کا آسرا نہیں، آسرا اُس کی رحمتوں کا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عبادت وہ ہے جو معبود کو منظور ہو جائے، ورنہ کروڑوں سال کی عبادت ایک سجدہ نہ کرنے سے ضائع ہوتی   دیکھی گئی اور مقرب معتوب ہوا کہ اُس نے اپنے عمل کے غرور میں اپنا مقام چھوڑ دیا۔ یہاں مقام صرف منظوری کا ہے، تقرّب صرف رضا مندی کا ہے۔ نتیجہ— اعمال کا نتیجہ— اعمال پر نہیں، عنایات پر ہے۔ عدل اہم چیز ہے لیکن فضل عدل سے بہت زیادہ قوی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ انسان کو ضعیف پیدا کیا گیا، ترغیبات کے رنگین جال میں انسان پھنس جاتا ہے اور جو لوگ اِس جال سے بچ گئے، وہ رحمت کے دائرے میں پناہ پا گئے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کیے ہوئے، اپنے نامزد فرمائے ہوئے انبیاء علیہم السّلام کو دنیا میں اِس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو گناہ اور کفر کی تاریکی سے باہر نکالیں۔ اُن سے جہالت کے اندھیرے دُور کریں اور وہ لوگ جو خواہشات کے جال میں جکڑے جا چکے ہیں، اُن کو اُمّید اور رحمت کی قوت عطا فرما کر اُنہیں ہر بندھن توڑنے کے لیے تیار کر دیا جائے۔

دنیا میں آنے والے تمام پیغمبروں علیہم السّلام نے انسانیت کی خدمت کی، انسان کو فلاح کی طرف سفر کروایا اور سب پیغمبروں میں سب سے زیادہ بزرگ پیغمبرؐ، محبوب پیغمبرؐ، منوّر پیغمبرؐ اور پیغمبروں کے امام پیغمبرؐ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کے کمال کا مظہر بنا کر بھیجا۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے آپؐ کو سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ یہ مقام بڑے غور کا ہے کہ کیا ایک انسان سب انسانوں کے لیے اور سب جہانوں کے لیے رحمت یا باعثِ رحمت ہو سکتا ہے، اور اگر ایک انسان سب انسانوں کے لیے، سب جہانوں کے لیے، پوری کائنات کے لیے، ماضی، حال،مستقبل کےلیے، ظاہر باطن کی کائنات کےلیے،  رسولِ ؐرحمت ہے تو وہ ایک انسان کیا انسان ہوگا!

اب ایسے انسان کے بارے میں کچھ کہنے کی بجائے اُس پر دُرود و سلام بھیجا جائے۔ عام آدمی اپنی ذات کے لیے باعثِ رحمت نہیں ہو سکتا اور سرکارؐ پوری کائنات کے لیے باعثِ رحمت ہیں —  یعنی پوری کائنات کے لیے مایوسیوں سے نکلنے کی ضمانت عطا فرماتے ہیں —  تو مطلب واضح ہوا کہ رحمت قربِ رسولؐ ہے اور اِس قرب سے محروم انسان کو اُس کے اعمال کی عبرت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ عمرِ گذشت کے کفر اور اُس کی بداعمالیوں کے نتیجے سے بچنے کا واحد ذریعہ حضورؐ کی مہربانی ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کی کمی بیشی سے بچانے والی ذات حضورِ اکرمؐ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپؐ کا وجودِ مبارک جہاں باعثِ تخلیقِ کائنات ہے، وہاں باعثِ قیامِ کائنات اور باعثِ نجاتِ کائنات بھی ہے۔

انسان دنیا کے بکھیڑوں میں مبتلا ہو کر بھول جاتا ہے کہ وہ کس سفر پر آیا، کس مقصد کے لیے آیا اور اُسے کہاں جانا ہے۔ وہ کھیل میں مصروف ہو جاتا ہے اور مقصدِ اعلیٰ اُس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ حضورؐ کی ذاتِ گرامی گمراہوں کو ہدایت دے کر صراطِ مستقیم سے آشنا فرماتی ہے۔ آپؐ کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے کہ آپؐ رسولوں میں سے ہیں اور آپ ہی صراطِ مستقیم پر ہیں — یعنی حضورؐ کے راستے پر چلنے والا، حضورؐ سے محبت کرنے والا، حضورؐ کی اطاعت کرنے والا، اللہ کے قرب کو حاصل کر لیتا ہے، اور جس پر حضورؐ مہربان، اُس پر اللہ مہربان، اور جس پر اللہ مہربان ہو جائے، وہ کسی اعمال کی کمی بیشی سے کیوں خوف کھائے گا۔ اللہ ہی کا ارشاد ہے کہ اے میرے محبوبؐ! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اِن پر عذاب ڈالوں جبکہ آپؐ اِن میں ہیں، یعنی جس دل میں حضورؐ کی یاد ہے، وہ ہمیشہ قرار میں رہے گا اور جائے قرار بہشت کے علاوہ کیا ہے؟ گویا کہ حضورؐ کی محبّت باعثِ حصولِ نجات ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نیک اعمال نہ کرے، کیونکہ یہ حضورؐ کی محبت سے انحراف ہے۔ حضورؐ  کا ہر عمل ہمارے لیے ایک نمونہ ہے اور ہر عمل ہمارے لیے نجات کا باعث ہے۔

Pages: 1 2 3 4