جس طرح مشاہدہ کا بیان مشاہدہ نہیں ہوتا، اُسی طرح صاحبِ حال پڑھنے یا سُننے والی بات نہیں، وہ دیکھنے والی شے ہے۔ اُس کے جلوے خِرد اور جنوں کی سرحدوں پر ہوتے ہیں۔ جہاں اہلِ عقل کی حد ہے، وہاں سے صاحبِ دل کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ جذب اور سلوک کے درمیان ایک منزل ہے، جسے حال کہتے ہیں اور جہاں ہونا، نہ ہونا ہے اور نہ ہونا، عین ہونا ہے۔ صاحب ِ حال اُس مقام پر ہوتا ہے، جہاں قال کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ الفاظ حقیقت کو محجوب کر دیتے ہیں۔ کہنے والا کچھ اور کہہ رہا ہوتا ہے اور سُننے والا کچھ اور سُننے لگ جاتا ہے۔ اِسی لیے صاحب ِحال الفاظ سے گریزاں ہوتا ہے۔ وہ اِس کائنات میں نئی کائنات دریافت کر چکا ہوتا ہے۔
وہ ظاہر سے باطن کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اِسم سے مسمیٰ دریافت کرتا ہے۔ نعمت سے مُنعم کا عرفان حاصل کرتا ہے۔ وہ مطلعِ انوارِ صُبح سے بھی لُطف اندوز ہوتا ہے اور اُس کی نگاہ ڈوبتے سُورج کی لاش پر بھی ہوتی ہے۔ صاحب ِحال قطرے میں قلزم اور ذرّے میں صحرا کو دیکھنے کی قدرت رکھتا ہے۔ صاحب ِحال تغیّر و تبدّل سے مرعُوب و متاثر نہیں ہوتا۔ موسم بدلتے ہیں، زمین و آسمان کے جلوے بدلتے ہیں، آغازو انجام کے رشتے بدلتے ہیں لیکن صاحب ِحال نہیں بدلتا۔ وہ زندگی اور موت کو ایک حقیقت کے دو رُخ سمجھتا ہے۔ وہ غم اور خوشی سے نجات پا چکا ہوتا ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی زمانہ سمجھتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے انوکھے رشتوں کا مفسّر ہوتا ہے۔ اِس فنا کے دیس میں صاحب ِحال ملک بقا کا سفیر ہے۔ صاحب ِحال اِس زمانے میں کسی اور زمانے کا پیغام رساں ہے۔ وہ ایسا صاحب ِ جُنوں ہے جو خِرد کی گُتھیاں سلجھا چکا ہے۔ اُس کی نگاہ سات رنگوں سے بہت آگے ہوتی ہے۔ وہ بے رنگ کے نیرنگ سے آشنا ہوتا ہے۔
صاحب ِحال کیفیّت کے اُس مقام پر ہوتا ہے جہاں تحیرّ بھی ہے اور شعور بھی، جہاں وارفتگی بھی ہے اور آگہی بھی۔ صاحب ِحال اَسماء اور اشیاء کے معانی اور مفاہیم سے با خبر ہوتا ہے۔ وہ اُس منزل پرہوتا ہےجہاں سفر ہی مدعائے سفر ہے۔ وہ خود آگہی کے ایسے دشتِ وحشت میں پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں نہ فراق ہے نہ وصال، نہ کوئی اپنا ہے نہ غیر۔ وہ سکوت سے ہم کلام رہتا ہے۔ وہ ذرّوں کے دِل کی دھڑکن سنتا ہے۔ اُس کی نگاہ وجود اور موجود کے باطن پر بھی ہوتی ہے اورعدم اور نا موجود کی حقیقت پر بھی۔ وہ ذات اور صفات کے تعلق سے آشنا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عیاں کا رابطہ ہر حال میں ”نہاں“سے قائم رہتا ہے۔ صاحب ِحال خود ہی آخری سوال ہے اور خود ہی اُس کا آخری جواب۔
صاحب ِحال بغیر حال کے سمجھ میں نہیں آتا۔ اُس کا قال بھی حال ہے اور خاموشی بھی حال۔ بہر حال صاحبِ حال اپنے وجود میں اپنے علاوہ بھی موجود رہتا ہے۔ معلوم اور نامعلوم کے سنگم پر صاحبِ حال گنگناتا ہے۔ آپ ایک ایسے اِنسان کا اندازہ کریں جس کی ایک ہتھیلی پر آگ ہو اوردوسری پر برف۔ وہ نہ آگ بجھنے دیتا ہے، نہ برف کا انجماد ٹوٹنے دیتا ہے۔ وہ ایک ایسی جلوہ گاہ میں محو کھڑا ہوتا ہے جہاں آنکھ کی راہ میں بینائی کا پردہ حائل نہیں ہوتا۔ اُس کی پیشانی زمین پر ہوتو اُس کی سجدہ گاہ آسمان پر ہوتی ہے۔ وہ کسی کو نزدیک سے پکارتا ہے اور جواب دینے والا دُور سے جواب دیتا ہے۔ اُس کا دل اُس کی آنکھ میں ہوتا ہے اور آنکھ دل میں ہوتی ہے۔ صاحب ِحال ”نمی دانم“ کے پردے میں دانائی کے چراغ جلاتا ہے۔ اُس کی خاموشی میں جمالِ گفتگو کے جلوے ہوتے ہیں۔ اُس کے قرب میں اِنسان اپنے آپ سے دُور ہو جاتا ہے۔ اُس کی محفل میں گردشِ زمان و مکاں رُک سی جاتی ہے۔
صاحب ِحال کوئی انوکھی مخلوق نہیں۔ وہ اِنسان ہے۔ اِنسانوں کی دُنیا میں اِنسانوں کے درمیان رہتا ہے۔ اُس کا اندازِ نظر اِ نسانوں سے جُدا ہوتا ہے۔ وہ معمولی سے واقعہ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ درخت سے پتا گرے تو وہ پکار اُٹھتا ہے: