صاحبانِ حال کے سلسلے میں قائدِ اعظمؒ کی مثال سب سے اہم ہے۔ وہ استقامت و صداقت کا پیکر قائدِ اعظمؒ کہلانے کے لیے کوشش نہیں کر رہا تھا۔ وہ مسلمانوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھا۔ اُس کے خلوص کو فطرت نے منظور کیا۔ اُسے صاحب ِحال بنا دیا۔ فتویٰ اُس کے خلاف تھا لیکن فطرت اور حقیقت اُس کے ساتھ تھی۔ اُسے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ بنا دیا گیا۔ اہلِ شرع کا ایک گروہ اُس بات کو اور اُس واردات کو نہ پہچان سکا، معترض رہا۔ اہلِ باطن پہچان گئے کہ یہ کسی کی نگاہ کی بات ہے۔ یہ فیض ہے کسی ذات کا۔ یہ نصیب کا فیصلہ ہے۔ اہلِ باطن قائدِ اعظم کے ساتھ ہو گئے، منزل مل گئی۔ ملک بن گیا۔ فتویٰ دینے والے آج تک نہ سمجھ سکے کہ یہ کیا راز تھا۔ قائدِ اعظمؒ دلوں میں اُتر گئے اور مخالفین دلوں سے اُتر گئے۔
جس طرح ہمارے ہاں طریقت کے سلاسل ہیں، چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی وغیرہ اور ہر سلسلہ کا کوئی بانی ہے، اسی طرح قائدِ اعظمؒ سے ایک نئی طریقت کا آغاز ہوتا ہے اور وہ طریقت ہے ”پاکستانی “، اِس طریقت میں تمام سلاسل اور تمام فرقے شامل ہیں۔ ہر ”پاکستانی“ پاکستان سے محبّت کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ ہمارے لیے ہمارا وطن خاکِ حرم سے کم نہیں۔ اقبالؒ نے مسلمانوں کو وحدتِ افکار عطا کی، قائدِ اعظمؒ نے وحدتِ کردار!! آج اگر قوم میں کوئی انتشارِ خیال ہے تو اِس لیے کہ وحدتِ عمل نہیں۔ وحدتِ فکر و عمل عطا کرنا وقت کے صاحبِ حال کا کام ہے۔ صاحب ِحال بنانے والی نگاہ کسی وقت بھی مہربانی کر سکتی ہے۔ وہ نگاہ ہی تو مشکل کشا ہے۔ نہ جانے کب کوئی صاحب ِحال قطرۂ شبنم کی طرح نوکِ خار پہ رقص کرتا ہوا آئے اور قوم کے دل و نگاہ میں سماتا ہوا وحدتِ عمل پیدا کر جائے، اور ایک بار پھر:
ع ہاتھ آئے مجھے میرا مقام اے ساقی
وقت کے صاحب ِحال کی خدمت میں بھی سلام!!
[1] حضرت واصف علی واصفؒ کا اپنا شعر ، در شعری مجموعہ: “شب چراغ”