صاحب ِحال صاحب ِعشق ہوتا ہے، صاحب ِوجدان ہوتا ہے، صاحبِ مشاہدہ ہوتا ہے، صاحب ِیقین ہوتا ہے، صاحب ِایمان ہوتا ہے، صاحب ِنسبت ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ صاحب ِنصیب ہوتا ہے۔ صاحب ِحال کو مردِ حق آگاہ کہا گیا ہے۔ کہیں اُسے سُپرمین (Super Man) کہا گیا ہے۔ کبھی اُسے صرف مردِمومن بھی کہتے ہیں۔ صاحبِ حال حق آگہی و حق شناسی کے اُس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جہاں وہ اَناالحق کہہ اُٹھتا ہے۔ اُس ایک اَنا الحق میں کتنی حقیقتیں پنہاں ہوتی ہیں، یہ کوئی صاحب ِحال ہی جان سکتا ہے۔
صاحب ِحال میں نغمگی کا ہونا لازمی ہے۔ وہ بصد سامانِ رسوائی سرِ بازار رقص کرتا ہے۔ صاحب ِحال کے رقص میں بڑے رموز ہیں۔ صاحبانِ حال کشتگانِ خنجرِ تسلیم ضرور ہوتے ہیں۔
دیکھنے اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ اِس کائنات میں صاحب ِحال پیدا کرنے والی نگاہ ضرور کارفرما ہے۔ کوئی ہے اِس پردے کے پیچھے، کسی کا ہاتھ ضرور ہے جو اِن لوگوں کو حال عطا کرتا ہے۔ کوئی ایسی ذات موجود ہے، جس کا قرب اِنسان کو صاحب ِحال بنا دیتا ہے۔ ایسی ذات جو نظر ملا کر اِنسان کو بدل کے رکھ دیتی ہے۔ دیکھنے والے بے خبر رہتے ہیں اور بدلنے والا بدل چکا ہوتا ہے۔ وہ ذات علمِ لدُنّی کے خزانے لُٹاتی ہے اور پھر صاحبِ حال جہاں جہاں سے گزرے، راستے جگمگا اُٹھتے ہیں۔ صاحب ِحال بنانے والی ذات پر سلام ہو۔
صاحب ِحال بننے والے اِنسانوں کو غور سے دیکھا جائے تو اُن کی فطرت میں وفا اور اِستقامت کی بنیادی خوبی ضرور ہوتی ہے۔ ایک ایسا اِنسان جو صاحبِ علم نہ بھی ہو، اپنے عمل کی اِستقامت سے صاحب ِحال بن سکتا ہے اور صاحب ِحال ہو جانے کے بعد اُس کا صاحب ِ علم ہو جانا پہلا قدم ہے۔ مثلاً آپ ایک آرٹسٹ کو دیکھیں جو خلوص سے تصویر بناتا ہے۔ زندگی بھر اِستقامت سے فن کی خدمت کرتا ہے۔ ایک صبح نہ جانے کیوں اُس کا برش برہنگیِ اجسام کو کینوس پر اتارتے اتارتے خطّاطی کے شہ پارے پیش کرنے لگتا ہے۔ وہ قرآنی آیات کے حُسن میں ایسا محو ہوتا ہے کہ اُس کا باطن روشن کر دیا جاتا ہے اور وہ صاحب ِحال بن چکا ہوتا ہے۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تو اور آدمی تھا اور اب کیسے ہو گیا۔ بس ہو گیا۔ بنانے والے نے بنا دیا۔ وہ کافروں کو ایمان عطا کرتا ہے، اندھیروں کو روشنی بخشتا ہے، عاصیوں کو معاف کرتا ہے اور صاحبانِ استقامت کو اپنے لطف میں داخل فرما کر صاحبانِ حال بنا دیتا ہے۔ فتویٰ اُس کے خلاف ہوتا ہے لیکن حقیقت اور صداقت صاحب ِحال کے پاس ہوتی ہے۔
اِسی طرح اگر کوئی مُصنّف، علم کو خدا کا فضل سمجھنے والا، تحلیلِ جاں کے مراحل سے استقامت و صبر سے گزرے، تو اُسے وہ نگاہ قبول فرما لیتی ہے۔ پھر اُس کے اعمال و احوال یکسر بدل جاتے ہیں۔ وہ قیدِ وجود سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اُسے بے نیازِ غمِ دوراں کر دیا جاتا ہے۔ اب یہاں فتویٰ کیا کرے گا۔ قبول کرنے والا قبول کر رہا ہے تو ہم اعتراض کرنے والے کون ہیں۔ اگر سائیں کا فضل کسی کوصاحب ِحال بنا دےتو ہم کیو ں برہم ہوں! اعتراض کرنے والے فارمولا استعمال کرتے ہیں۔ قانون استعمال کرتے ہیں۔ قاعدہ کُلیہ استعمال کرتے ہیں اورصاحب ِحال فارمولے سے باہر ہوتا ہے۔ فتویٰ اقبال ؒکے خلاف تھا اور فطرت اُس کی آنکھ میں خاکِ مدینہ ونجف کا سُرمہ لگا رہی تھی۔ وہ دانا ئے راز بنا دیا گیا۔ اُسے فقیری عطا ہوئی، قلندری ملی۔ وہ اُپدیشک ہو گیا۔ غبارِ راہِ حجاز ہو گیا۔ مفتی اُس کے خلاف رہے۔ فطرت اُس کے ساتھ ہو گئی۔ اقبالؒ کا صاحب ِحال ہونا، مخالفینِ اقبالؒ کو صاحبانِ حال بننے سے محروم کر گیا۔ یہ اُس نگاہ کے فیصلے ہیں۔ اُس کی عطا کے کرشمے ہیں۔ عمل کسی اور رُخ کا ہوتا ہے، فضل کسی اور طرف پہنچا دیتا ہے۔ کوئی سمجھے تو کیا سمجھے، کوئی جانے تو کیا جانے!!