پتّا ٹُوٹا ڈال سے، لے گئی پون اُڑا
اب کے بچھڑے کب ملیں گے دُور پڑیں گے جا[1]

ایک صاحب ِحال نے جنازہ دیکھا۔ پُوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ جواب ملا: ”زندگی کی آخری منزل۔ “ بولا: ”اگر یہ آخری منزل ہے تو ہم کون سی منزل میں ہیں۔  کیوں نہ آخری منزل کو دیکھا جائے۔ “ بس تخت چھوڑ دیا، شہر چھوڑ دیا،  جنگل کی راہ لی اور پھر راز آشنا ہو گیا۔

موسیٰ علیہ السلام کی صاحبِ حال سے ملاقات ہوئی۔  ایک دَور کا پیغمبر اپنے دَور کے صاحب ِ حال سے مِل کر حیران رہ گیا کہ یہ کون سا علم ہے؟ کتاب کا علم! کتاب کا علم تو موسیٰؑ کے پاس بھی تھا، بلکہ کتاب ہی موسیٰؑ کے پاس تھی۔  صاحبِ حال کسی اور زمانے کے واقعات میں مصروف تھا۔  موسیٰ ؑ اپنے زمانے کا حال دیکھ رہے تھے۔  نتیجہ “ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ” یعنی جدائی۔ موسیٰ ؑ کے عرفان میں شک نہیں ہو سکتا۔  آپ کے مقام پر شک نہیں ہو سکتا۔  آپ کی بصیرت پر شک نہیں۔  آپ کے عصا،  یدِ بیضا اور کلیمی پر شک نہیں لیکن صاحب ِحال آپ کی پہچان میں نہ آ سکا۔  صاحب ِ حال کا علم ”لدُنّی “ ہے،  مخفی ہے۔  اُسے اللہ کی عنایت کا خصوصی مظہر کہناچاہیے۔

ایک صاحب ِحال کا ذکر میتھیو آرنلڈ ( Matthew Arnold )نے اپنی نظم سکالر جپسی (The Scholar-Gipsy) میں کیا ہے کہ ایک آدمی علمِ ظاہری کی اذیّت سے تنگ آ کر علمِ باطن کے سفر پر نکل گیا۔  آکسفورڈ سے بھاگا ہُوا طالبِ علم،  علم کی طلب میں سر گرداں رہا۔  علم سے بھاگ کر علم میں داخل ہونا ہی صاحبِ حال کا کام ہے۔  وہ علم اور ہے۔  اُس کی تلاش میں اِنسان زندگی سے نکل جاتا ہے اور پھر موت سے بھی نکل جاتا ہے اور پھر حیاتِ جاوداں پا لیتا ہے۔
’سکالر جپسیٗ  ہر زمانے کو آ کر بتاتا رہا کہ جو ایک ہو گیا،  یکتا ہو گیا،  وہ مر نہیں سکتا۔  وحدت کو موت نہیں اور کثرت موت سے بچ نہیں سکتی۔  جو بدلتا نہیں، مرتا نہیں۔  جو تبدیل ہوتا ہے،مرتا ہے۔

ایک صاحب ِحال مولانا روم ؒ سے ملا۔  بولا: ”مولانا! یہ کیا علم ہے؟“ مولانا نے کہا: ”اِسے آپ نہیں جانتے۔ “صاحبِ حال نے اپنا علم ظاہر کیا۔  مولانا بولے: ”یہ کیا علم ہے؟“ صاحبِ حال بولا: ”جسے تم نہیں جانتے۔ “ بس پھر اِس کے بعد مولانا رومؒ،  غلامِ شمس تبریزؒ ہو کر رہ گئے۔  مولانا بھی صاحب ِحال ہو گئے۔  صاحب ِمثنوی ہو گئے،  ایسی مثنوی کہ قلوب کی خشک زمین پرعشقِ حقیقت کی نورانی برسات ہے۔ مثنوی صاحبِ حال بناتی ہے۔  پِیرِ رومیؒ کی محبّت میں ”مریدِ ہندی“ صاحب ِحال ہو گیا،  بلکہ صاحب ِاقبال باکمال ہو گیا۔

Pages: 1 2 3 4