ہر انسان کسی نہ کسی شے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔  کوئی کچھ چاہتا ہے، کوئی کچھ ڈھونڈ رہاہے۔  انسانوں کے ہجوم میں آرزوؤں کا بھی ہجوم ہے۔  دشمن،  دشمن کی تلاش میں ہے اور دوست،  دوست کی جستجو میں۔

کائنات کی تمام اشیاء کا ہمہ وقت مصروفِ سفر رہنا کسی انوکھی تلاش کا اظہار ہے۔  آرزو کاانجام شکست ِ آرزو ہو،  تو بھی یہ ہستی کی دلیل ہے۔  سورج تاریکی کے شکار کونکلا ہے اور تاریکی سورج کے تعاقب میں ہے۔  دریا کوسمندر کی لگن ہے اور سمندر کو دریا بننے کی خواہش مضطرب کر رہی ہے۔  ہر چیز اپنے اپنے مدار میں اپنی خواہش اور تلاش کے حصار میں ہے۔

تلاش متحرک رکھتی ہے اور حرکت رازِ ہستی ہے۔  تلاش ہی انسان کی جبلّت ہے۔  یہ اس کا اصل ہے۔  یہ اس کا خمیر ہے۔  یہ اس کی سرشت ہے۔  جسے اور کوئی تلاش نہ ہو،  وہ اپنی تلاش کرتا رہتاہے۔  وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے؟ وہ کب سے ہے؟ اور وہ کب تک رہے گا؟ وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ کون سا جذبہ ہے جو اسے محرومیوں اور ناکامیوں کے باوجود زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

انسان اس بات سے آگاہ ہونا چاہتا ہے کہ یہ کائنات اور نظامِ کائنات کس نے تخلیق فرمایا؟ تخلیقِ حُسن میں کیا حُسنِ تخلیق ہے؟ یہ سب جلوے کس کے ہیں؟ کون ہے اس پردۂ  رعنائی کے اندر؟ اور کون ہے اس پردے سے باہر؟ اور یہ پردہ کیا ہے؟

تلاش کا سفر اتنا ہی قدیم ہے،  جتنا ہستی کا سفر۔  ہر پیدا ہونے والے کے ساتھ اس کی تلاش بھی پیدا ہوتی ہے۔  انسان آگاہ ہو یا بے خبر،  وہ ہمیشہ رہین ِ آرزو رہتا ہے۔  زندگی کی آرزو دراصل کسی کی جستجو ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5