انسان کو ہمہ وقت ایسے احساس ہوتا ہے جیسے وہ کچھ کھو چکا ہے۔  وہ کچھ بھول گیا ہے۔  اُسے چھوڑی ہوئی منزل متلاشی بناتی ہے۔  وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی قدیم راز تھا،  جو گُم ہو گیا۔  اُس کا بے ربط ماضی،  اُسے کسی درخشندہ مستقبل سے محروم کر گیا۔  شاید وہ دنیا کے عوض آخرت کا سودا کر بیٹھا۔  انسان غور کرتا ہے اور جوں جوں غور کرتا ہے،  ایک شدید پیاس کی طرح ایک نامعلوم تلاش اسے جکڑ لیتی ہے۔  اس تلاش سے مفر نہیں۔

جس انسان کو تلاش کے نقطہ ہائے دقیق سے آشنائی نہ ہو،  وہ دوسرے انسانوں کے چہرے ہی دیکھتا چلا جاتا ہے،  جیسے ان چہروں میں اسے کسی خاص چہرے کی تلاش ہو اور وہ چہرہ شاید اس نے دیکھا ہوا بھی نہ ہو،  لیکن اسے پہچان لینے کا دعویٰ اس کے پاس موجود ہو۔  اَن دیکھے چہرے کو ڈھونڈنا اور اسے پہچاننا انسان کی تلاش کا کرشمہ ہے۔  ایسے لگتا ہے جیسے انسان اس چہرے کو پہلی بار دیکھنے سے پہلے بھی دیکھ چکا ہو۔

انسان کی تلاش ہی اس کا اصل نصیب ہے۔  یہی اس کے عمل کی اساس ہے۔  یہی تلاش اس کے باطن کا اظہار ہے۔  یہی اس کے ایمان کی روشنی ہے۔  تلاش انسان کو چَین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔  اسے یوں محسوس ہوتا ہے  جیسے کوئی بچھو اسے اندر سے ڈَس رہا ہے۔  وہ بھاگتا ہے، دوڑتا ہے، بے تاب و بیقرار،  اُس تریاق کی تلاش میں جو اِس زہر کا علاج ہے۔  جب وہ شکل سامنے آتی ہے،  اسے قرار آ جاتا ہے۔  ہر چند کہ اُسے پہلی بار دیکھا ہے، وہ اُسے پہچان لیتا ہے۔

دراصل ہم جس شے کی تلاش کرتے ہیں،  اُسی نے تو ہمیں اپنی تلاش عطا کی ہے۔  منزل ہی تو ذوقِ سفر پیدا کرتی ہے اور ذوقِ منزل رہنمائے سفر ہوتا ہے۔  منزل اگر اپنے مسافر نہ پیدا کرے تو ہر تلاش ایک واہمہ ہو کر رہ جائے۔  جو حاصل ِ آرزو ہے،  وہی خالق ِ آرزو ہے۔

ضرورت کی تلاش اور شے ہے، اور تلاش کی ضرورت اور شے۔  عرقِ گلاب یا گلقند کے لیے گلاب کو تلاش کرنے والا ضرورت مند کہلائے گا۔  اس کی ضرورت کچھ اور ہے۔  اُسے ہم تلاش کے باب میں قابل ِ غور نہیں سمجھتے۔  خوشبو کا مسافر،  بُوئے گُل کو منزلِ دل کا مقام سمجھتا ہے۔  وادیٔ نور کے مسافروں کی راہنما نکہت ِ گُل ہی تو ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5