کچھ انسان صداقت کی تلاش کرتے ہیں۔  یہ ساری کائنات ہی صداقت پر مبنی ہے،  لیکن صداقت کا اپنا الگ وجود نہیں۔  صداقت،  صادق کی بات کو کہتے ہیں۔  صادق کا قول صداقت ہے۔  اِس صداقت کی پہچان اپنی صداقت سے ہے۔  اپنی صداقت،  اعتمادِ ذاتِ صادق ہے۔  کسی جھوٹے انسان نے کبھی کسی صادق کی تلاش نہیں کی۔  کاذب،  صادق کا ہم سفر نہیں رہ سکتا۔  صادق ماننے کے بعد اُس کی راہ کے علاوہ کوئی راہ گمراہی ہے۔

تلاش کا یہ مقام بہت ارفع ہے کہ انسان صداقت کی تلاش کرے۔  صادق سے نسبت کا سہارا لے کر انسان اپنی ذات سے آشنا ہو جاتا ہے۔  یہ تلاش اپنے باطن کی تلاش ہے۔  اپنے آپ میں جتنی صداقت میسر آئے گی، اتنا ہی صادق سے تقرّب بڑھے گا۔  جس انسان کو اپنے آپ میں صداقت نظر نہ آئے،  وہ نسبت ِ صادق سے محروم ہو جاتا ہے۔

انسان کی پہچان کا راز اس کی تلاش میں مضمر ہے۔  ہم جس شے کے انتظار میں ہیں،  وہی ہماری عاقبت ہے۔  ہمیں اپنے انتظار کی کھوج لگانی چاہیے۔  سچ کے مسافر سچے ہوتے ہیں اور جھوٹ کے جھوٹے۔

اِس دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں،  جو حقیقت کی تلاش کرتے ہیں۔  ان کا مدعا خالقِ حقیقی ہے۔  یہ تلاش نہ ختم ہونے والی تلاش ہے۔  اِس سفر کا مدعا بھی سفر ہے۔  اِس کی انتہا بھی سفر ہے۔  محدود کا لامحددو کے لیے سفر کسی بیان میں نہیں آ سکتا۔  قطرے کو قلزم آشنا ہونے کے لیے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے،  وہی جانتا ہے جس پر یہ مقامات اور مراحل گزرتے ہیں۔

خالق کی تلاش بعض اوقات دنیا سے فرار کی خواہش ہے۔ دنیا سے گھبرا کر،  وحشت زدہ ہو کر،  انسان خالق کا قرب تلاش کرتا ہے۔  کچھ لوگ دنیا کی نعمتوں کے حصول کے باوجود،  اس کی محبّت میں سرشار،  خالق کی تلاش میں نکلتے ہیں۔  حقیقت کی تلاش انھیں کسی انسان تک ہی پہنچاتی ہے اور وہ انسان انھیں راز آشنا کر دیتا ہے۔  اس کے بعد کا سفر،  جلووں کا سفر ہے۔  نور کا سفر ہے۔  اسی کائنات میں نئی کائنات کا سفر ہے۔ قطرے کا سفر وصالِ قلزم کے بعد ”اناالبحر“ کا بیان ہے اور یہ بیان،  بیان میں نہیں آ سکتا۔

Pages: 1 2 3 4 5