کچھ ذہین لوگ عقلِ سلیم کے ذریعے حقیقت کی تلاش کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔  یہ سفر بڑا محتاط ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے عبرت کدے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔  وہ تحیرّ آشنا ہو کر حقیقت آشنا ہو جاتے ہیں۔  وہ جانتے ہیں کہ کوئی نتیجہ بے سبب نہیں ہوتا اور کوئی سبب بغیر نتیجے کے نہیں ہو سکتا۔  اتنی بڑی کائنات بغیر سبب کے نہیں اور اس سبب کا ایک پیدا کرنے والا ضرور ہے،  اور وہی مسبّب ہے۔  عقل والے سبب سے مسبّب کا سفر کرتے ہیں۔  وہ نعمتوں سے مُنعم کا نشان معلوم کرتے ہیں۔  وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہر چیز انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔  انسان زندہ ہونے کے باوجود زندگی کو نہیں سمجھ سکتا۔  وہ مرے بغیر موت کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔  وہ خالق سے راز آشنائی کا سوال کرتے ہیں اور اُن کو رموزِ مرگ و حیات سے آگاہ کر دیا جاتا ہے،  تو وہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ ” اَسلَمتُ لِرَبِّ العالَمین “ — اور اس تسلیم کا نتیجہ — آگ گلزار بن جاتی ہے اور وصالِ حق کی منزل آسان ہو جاتی ہے۔

غرض یہ کہ،  تلاش جو انداز اختیار کرے،  حاصلِ تلاش اُسی اندازسے سامنے آئے گا اور سب سے اچھا انداز تلاشِ تقرّب صادق ہے،  اعتمادِ شخصیت ِ صادق ہے۔  یہ تلاش عین ایمان ہے۔  سب سے سچے اور اکمل انسانؐ نے حقیقت کے بارے میں جو فرما دیا،  وہی حقیقت ہے۔  اُسی کی اطاعت کرنا ہے۔  نئے اندازِ فکر کی بدعت میں مبتلا نہیں ہونا۔

صداقت کا سفر،  حقیقت کا سفر ہے۔  صادق کا تقرّب،  حق کا تقرّب ہے۔  صادق کی محبّت،  حق کی محبّت ہے۔  صادق کی رضا،  صداقت کی سند ہے،  اور صداقت کی سند،  حقیقت کا وصال ہے۔  آئینۂ صداقت میں جمالِ حقیقت نظر آ سکتا ہے۔  اسی کی تلاش گوہرِ مقصد کی تلاش ہے اور یہی تلاش،  حاصلِ ہستی ہے،  اور یہی حاصل، عین ایمان ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5